ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ بندی ایران کے اُن عمومی اصولوں کے مطابق ہے جن پر ملک ہمیشہ کاربند رہا ہے، اور یہ پیش رفت موجودہ علاقائی صورتحال میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جنگ بندی کو ایرانی قوم کی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت دراصل رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے نظریاتی اور سیاسی موقف کا بھی تسلسل ہے، جس نے خطے میں ایران کے مؤقف کو تقویت دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا حصول ایرانی عوام کی بھرپور شمولیت اور یکجہتی کے باعث ممکن ہوا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ملک سفارتی محاذ اور دفاعی حکمتِ عملی دونوں میدانوں میں مزید ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھے، تاکہ قومی مفادات کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب سفارتی سطح پر بھی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان رابطے کے بعد مسعود پزشکیان نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی پاکستان آمد کی تصدیق کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ اور باہمی تعاون کے نئے امکانات کو اجاگر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کی جانب سے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کا اعلان بدھ کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔