تہران :ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو وہ دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے جبکہ ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے اہداف کی نشاندہی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے کہ صہیونی ریاست کی جانب سے لبنان کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث جنگ بندی برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا، حالیہ حملوں کو معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی منصوبے کے تحت تمام محاذوں پر لڑائی روکنے پر اتفاق ہوا تھا، جس میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں بھی شامل تھیں، اطلاعات ہیں کہ اسرائیل نے بدھ کی صبح سے لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایران ایک جانب جنگ بندی معاہدے سے علیحدگی کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایرانی مسلح افواج ممکنہ ردعمل کے لیے اہداف کی نشاندہی کر رہی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر امریکا اپنے اتحادی کو روکنے میں ناکام رہتا ہے تو ایران خود براہ راست کارروائی کر سکتا ہے۔