امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے پیپلز پارٹی پرتنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں ’’حق دو کراچی‘‘ مہم کے بینرز کی اشاعت پر دکانداروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کی دکانیں سیل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو جمہوری اقدار کے منافی عمل ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا اب شہر کے عوام کو ’’حق دو کراچی‘‘ کا نعرہ لگانے پر بھی گرفتار کیا جائے گا؟ اس نوعیت کے اقدامات فسطائیت اور جبر کی علامت ہیں جو ایک جمہوری معاشرے میں کسی صورت قابل قبول نہیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 18 برسوں میں شہریوں کو نہ تو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا سکا اور نہ ہی سڑکوں اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی مسائل کا کوئی مؤثر حل نکالا گیا۔ ان کے مطابق جب عوام اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو انہیں دبانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات عائد کرنا قابل افسوس ہے اور اس طرز عمل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، کراچی نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے صوبے کی 98 فیصد اور ملکی سطح پر تقریباً نصف معاشی سرگرمیاں وابستہ ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ ’’حق دو کراچی‘‘ تحریک کسی مخصوص گروہ یا طبقے کی نہیں بلکہ شہر کے کروڑوں شہریوں کی اجتماعی آواز ہے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کراچی کو اس کے بنیادی اور آئینی حقوق نہیں مل جاتے۔