ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ ٹومی پگوٹ نے کہا ہے کہ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کے حوالے سے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کسی بھی قسم کے جلد بازی پر مبنی معاہدے کے حق میں نہیں اور صرف ایسا سمجھوتہ قبول کیا جائے گا جو امریکی مفادات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے عرب ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر واضح کیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکا دباؤ میں آ کر کسی کمزور یا ناقص معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن پر کسی جانب سے یہ دباؤ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عجلت میں فیصلہ کرے، امریکی قیادت اس وقت ایسے معاہدے کی کوشش کر رہی ہے جو نہ صرف خطے میں استحکام کا باعث بنے بلکہ امریکی عوام اور قومی مفادات کے لیے بھی سودمند ثابت ہو۔
ٹومی پگوٹ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر بالکل واضح ہیں اور امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، یہ معاملہ امریکی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جاری سفارتی سرگرمیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ مختلف سطحوں پر ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی اور پس پردہ مذاکرات سے متعلق مختلف اطلاعات عالمی ذرائع ابلاغ میں زیرِ گردش ہیں۔ سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے متعدد خفیہ اور اعلانیہ رابطے جاری ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی پیش رفت کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔