ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

افغانستان میں پابندیوں کے باعث 10 لاکھ لڑکیاں متاثر ہوچکی ہیں: یونیسیف

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی تازہ رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی پابندیوں کے نتیجے میں اب تک 10 لاکھ سے زائد لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2030 تک متاثرہ لڑکیوں کی تعداد بڑھ کر 20 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جو نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ ملک کے مجموعی سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا، لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندیاں مستقبل میں افرادی قوت کی شدید کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں اس پہلو کو بھی اجاگر کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو افغانستان 2030 تک تقریباً 25 ہزار خاتون اساتذہ سے محروم ہو جائے گا، جس سے تعلیمی نظام مزید کمزور ہو جائے گا اور نئی نسل کی تربیت متاثر ہوگی۔

مزید برآں صحت کے شعبے میں بھی سنگین نتائج سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جہاں اندازہ ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ملک کو 5 ہزار 400 لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کمی کا سامنا ہوگا، جس سے خصوصاً خواتین اور بچوں کی صحت کی سہولیات بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کی سرکاری اداروں میں ملازمت پر متعدد پابندیاں عائد کیں، جبکہ 12 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر بھی قدغن لگا دی گئی، جس پر عالمی برادری کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ افغانستان میں پائیدار ترقی اور سماجی استحکام کے لیے خواتین کی تعلیم اور روزگار تک رسائی ناگزیر ہے، بصورت دیگر ملک کو طویل المدتی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں