کابل: معروف صحافی سمیع یوسف زئی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے افغان طالبان کے سابق سربراہ ملا عمر کے خفیہ ٹھکانے کی تصاویر منظرِ عام پر لا دی ہیں، جہاں وہ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں روپوش رہے۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں سمیع یوسف زئی کا کہنا تھا کہ صوبہ زابل میں ملا عمر کئی سال تک ایک تاریک اور محدود کمرے میں مقیم رہے۔ یہ معلومات ان کے میزبان ملا جبار کے حوالے سے سامنے آئیں، جنہوں نے بتایا کہ ملا عمر زیادہ تر وقت مٹی کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر گزارتے تھے۔


معروف صحافی نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ملا عمر نے نہایت سادہ اور مشکل حالات میں زندگی گزاری اور وہ تپِ دق (ٹی بی) جیسے مرض کے باعث انتقال کر گئے، گرمی کے موسم میں ان کے جسم سے خارج ہونے والے پسینے کے نشانات دیوار پر مستقل طور پر ثبت ہو گئے تھے ۔
سفارتی اور تجزیاتی حلقوں نے اس صورتحال کو ایک انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک بڑی تحریک کے رہنما کا اس قدر تنہائی اور کسمپرسی میں رہنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ دوسری جانب طالبان کے حامی حلقے ان حالات کو تقویٰ، قربانی اور روحانی استقامت کی علامت کے طور پر پیش کرتےہ رے ہیں۔


سمیع یوسف زئی نے اپنے تبصرے میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر ملا عمر ایک مضبوط اور فیصلہ کن رہنما تھے تو انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برس کھلے عام قیادت کے بجائے روپوشی میں کیوں گزارے، بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ طالبان کے اندرونی عناصر نے انہیں محدود یا دباؤ میں رکھا، اس حوالے سے حتمی حقیقت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ ملا عمر کی زندگی، وفات اور آخری ایام سے متعلق ماضی میں بھی مختلف اور متضاد دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث ان کی شخصیت اور حالاتِ زندگی آج بھی کئی پہلوؤں سے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔