لاہور : ملک کے ممتاز صحافی ، منفرد اسلوب کے کالم نگار ، ادیب ،عالمگیر شہرت کے حامل دانشور اور اردو ڈائجسٹ کے مدیر الطاف حسن قریشی 97برس کی عمر میں یہاں انتقال کر گئے ۔
الطاف حسین قریشی کچھ عرصے سے علیل تھے ۔پون صدی تک صحافت ، ادب اور فکر و دانش کی بھرپور خدمت کرنے والی شخصیت داعی اجل کو لبیک کہہ گئی۔انہیں پاکستان میں نظریاتی صحافت کا بانی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔مرحوم نے فرزند ارجمند کامران الطاف سمیت اپنے لاکھوں پرستاروں کو سوگوار چھوڑا ہے ۔
مرحوم کی نماز جنازہ کل اتوار 17مئی کو بعد نماز ظہر جامعہ اشرفیہ فیروز پور روڈ لاہور میں ادا کی جائے گی ۔جنازہ ان کی رہائش گاہ واقع 189جی تھری جوہر ٹاؤن لاہور سے اٹھایا جائے گا۔
برصغیر اور پاکستان کی صحافت، ادب اور فکری زندگی کی ایک انتہائی مؤثر شخصیت تھے۔ وہ بالخصوص ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے بانی مدیر کے طور پر جانے جاتے اور کئی دہائیوں تک نظریاتی صحافت، قومی مسائل اور اسلامی فکر کے حوالے سے لکھتے رہے۔
ابتدائی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ الطاف حسن قریشی 1929 میں امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔