ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سب سے بڑی کامیابی توحید ہے، ظلم اور ناشکری کرنے والی قوموں سے نعمتیں چھین لی گئیں: خطبہ حج

میدان عرفات میں لاکھوں فرزندانِ اسلام کی موجودگی میں مسجد نمرہ سے خطبۂ حج دیتے ہوئے امامِ مسجد نبوی ﷺ شیخ عبدالرحمان الحذیفی نے امتِ مسلمہ کو تقویٰ، صبر، اتحاد اور خالص توحید اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندۂ مومن کا اپنے رب سے مضبوط تعلق ہی نجات اور کامیابی کا اصل راستہ ہے، اس لیے ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور اسی کی عبادت کرنا لازم ہے۔

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور حضور نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پیش کرنے کے بعد شیخ عبدالرحمان الحذیفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حج اللہ تعالیٰ کا عظیم فریضہ ہے جسے امتِ مسلمہ کے لیے ایمان اور بندگی کی علامت بنایا گیا ہے، نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں جبکہ توحید پر کامل یقین اور اس پر عمل پیرا ہونا ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔

خطبے میں انہوں نے مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آزمائشیں زندگی کا حصہ ہیں لیکن اہلِ ایمان کو مشکلات میں بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے اجرِ عظیم اور بلند درجات کی بشارت دی ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اس کے لیے ربِ کریم نے دوہری جنت تیار کر رکھی ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

امامِ مسجد نبوی ﷺ نے کہا کہ دنیا بھر سے مختلف نسلوں، زبانوں اور رنگوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان آج ایک ہی مقام پر جمع ہیں اور یہ منظر اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کا واضح مظہر ہے، اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے جو میدانِ عرفات میں حاضر ہوکر عبادات اور ذکرِ الٰہی میں مشغول ہیں۔

شیخ عبدالرحمان الحذیفی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ مسلمان ہمیشہ سچائی کو اختیار کریں اور جھوٹ، بہتان اور غلط بیانی سے مکمل اجتناب کریں۔ انہوں نے حجاج کرام کو نصیحت کی کہ وہ نمازوں کی پابندی کریں، ذکر و اذکار میں مصروف رہیں اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت کی دعائیں مانگتے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو حکم دیا تھا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس آواز کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ آج دور دراز علاقوں سے لاکھوں افراد اسی پکار پر لبیک کہتے ہوئے بیت اللہ پہنچے ہیں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرسکیں۔

خطبۂ حج میں امامِ مسجد نبوی ﷺ نے مزید کہا کہ حج کے دوران لڑائی جھگڑا، اختلاف اور ایسے تمام اعمال سے بچنا ضروری ہے جو مسلمانوں کی وحدت کو نقصان پہنچائیں، شعائرِ اللہ کا احترام تقویٰ کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پاسداری ہی بندے کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کے حالات پر رحم و کرم کی دعا بھی کی۔

شیخ عبدالرحمان الحذیفی نے حجاج کرام کو ہدایت کی کہ وہ مناسکِ حج کو مکمل اخلاص اور بہترین انداز میں ادا کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی دعاؤں کو قبول فرمانے والا، گناہوں کو معاف کرنے والا اور بندوں پر بے پایاں رحمت فرمانے والا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور ان کے اعمال اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

خطبے کے اختتام پر انہوں نے خصوصی دعا کرتے ہوئے کہا کہ یا اللہ تمام عازمینِ حج کو سلامتی اور خیر و عافیت کے ساتھ اپنے گھروں تک واپس پہنچا، ان کے دلوں میں محبت اور حق کو جمع فرما اور ان کے حج اور عبادات کو شرفِ قبولیت عطا فرما۔

بعد ازاں لاکھوں حجاج کرام نے میدانِ عرفات میں خطبۂ حج سنا جبکہ عالمِ اسلام کو درپیش مسائل، امت کے اتحاد اور مسلمانوں کی فلاح و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ خطبے کے بعد مسجد نمرہ میں نمازِ ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی گئی۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں