لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی حملوں نے ایک بار پھر معصوم بچوں کو نشانہ بنایا ہے، جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 15 بچے جان کی بازی ہار گئے جبکہ 62 زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان اعداد و شمار پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے صورتحال کو نہایت افسوسناک قرار دیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان سمیت مختلف علاقوں میں فضائی حملوں اور بمباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں شہری آبادی خصوصاً بچے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف گزشتہ 7 روز کے دوران بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ادارے نے ان اعداد و شمار کو ’’حیران کن‘‘ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت جنگ اور تنازعات کے دوران بچوں کو ہر صورت تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
جنیوا میں ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے یونیسیف کے ترجمان ریکارڈو پائرس نے بتایا کہ لبنانی وزارت صحت عامہ کی معلومات کے مطابق گزشتہ ہفتے میں مجموعی طور پر 77 بچے ہلاک یا زخمی ہوئے۔ یہ شرح اوسطاً ہر 24 گھنٹے میں 11 بچوں کے متاثر ہونے کے برابر بنتی ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر بچے جنوبی لبنان میں ہونے والے فضائی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں، جہاں رہائشی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا۔
ترجمان کے مطابق صرف ایک روز کے دوران 7 بچے جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہوئے، جس نے انسانی بحران کی شدت کو مزید واضح کردیا ہے۔
یونیسیف نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور تمام فریقین بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔ جنگی حالات میں بچوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔
ادھر لبنان میں مسلسل حملوں کے باعث ہزاروں خاندان عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ متعدد علاقوں میں تعلیمی اور طبی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو خطے میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔