ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کینیا: اسکول کو آگ لگانے کے الزام میں 8 طلبا گرفتار

کینیا کے تعلیمی اداروں میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے کے بعد حکام نے لڑکیوں کے ایک بورڈنگ اسکول میں آتشزدگی کے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث آٹھ طلبا کو حراست میں لے لیا ہے، یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اسکول ہاسٹل میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 طالبات جان کی بازی ہار گئیں۔

کینیا کے وسطی علاقے ناکورو میں واقع اس بورڈنگ اسکول میں پیش آنے والے اس دلخراش واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کردیا ہے، پولیس کے مطابق آگ اسکول کے ہاسٹل میں اچانک بھڑکی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرلی اور متعدد کم عمر طالبات اس کی لپیٹ میں آگئیں۔

ڈائریکٹوریٹ آف کریمنل انویسٹی گیشن کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے دوران آٹھ طلبا کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے آگ لگنے کے اسباب اور ممکنہ ذمہ داری کے حوالے سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ تفتیش کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ اصل حقائق تک پہنچا جاسکے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق ہاسٹل میں لگی آگ اس قدر تیزی سے پھیلی کہ وہاں موجود طلبا اور انتظامیہ کو فوری طور پر نکالنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

ریسکیو اہلکاروں اور فائر فائٹرز نے جانوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور کئی طلبا کو عمارت سے باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کی، تاہم بدقسمتی سے 16 طالبات موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔

ابھی تک آگ لگنے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے اور تفتیش کار مختلف زاویوں سے واقعے کی چھان بین کررہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے کے لیے تمام شواہد کو مدنظر رکھا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ کینیا میں اسکولوں میں آتشزدگی کے واقعات پہلے بھی سامنے آچکے ہیں، اور 2024 میں بھی قریبی نیری کاؤنٹی کے ایک پرائمری بورڈنگ اسکول میں آگ لگنے سے 21 طلبا ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

حالیہ واقعے نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں میں حفاظتی اقدامات اور ہاسٹل مینجمنٹ کے نظام پر سنگین تشویش پیدا کردی ہے، جبکہ متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں