’مودی حکومت ہر معاملے میں پھسڈی ثابت ہوئی‘، ایس بی آئی پر سائبر حملہ کی خبر پھیلتے ہی کانگریس حملہ آور

سنٹرل بینک ایس بی آئی پر سائبر حملہ کی خبروں نے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کانگریس نے بھی اس تعلق سے اپنی فکر کا اظہار کیا ہے اور مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ ایس بی آئی پر سائبر حملہ کی خبر پھیلنے کے بعد اہم اپوزیشن پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی بات بے باکانہ انداز میں رکھی ہے۔ پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’ایس بی آئی پر ہوا سائبر حملہ، 3897 صارفین کا ڈاٹا چوری۔‘‘ پارٹی آگے لکھتی ہے ’’مودی-شاہ سائبر سیکورٹی کا لاکھ ڈھنڈورا پیٹ لیں، لیکن یہ حکومت آپ کا ذاتی ڈاٹا محفوظ نہیں رکھ پا رہی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے بینک ایس بی آئی پر ہوا سائبر حملہ اسی بات کی گواہی دے رہا ہے۔‘‘

اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس کا کہنا ہے کہ ایس بی آئی پر ہوئے سائبر حملہ میں کسٹمرس کے نام، یوم پیدائش، موبائل نمبر، ای میل، گھر کا پتہ، قرض کے ریکارڈس، برانچ/کسٹمر آئیڈنٹیفائر جیسے ذاتی ڈاٹا لیک ہو گئے، جو ڈارک ویب پر موجود ہیں۔ پارٹی نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’حیرانی ہے 16 اکتوبر کو ہیکنگ کا الرٹ ملنے کے باوجود حکومت سوتی رہی اور سائبر سیکورٹی کو بھگوان بھروسے چھوڑ دیا۔‘‘

اس معاملہ میں مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ’’سائبر سیکورٹی میں ایسی سیندھ ماری ملک کی معیشت اور سیکورٹی دونوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ لیکن انتخابی جملوں میں مست مودی-شاہ کو اس کی پروا ہے ہی نہیں۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’مودی حکومت ہر معاملے میں پھسڈی ثابت ہوئی ہے۔‘‘ ایس بی آئی پر ہوئے سائبر حملہ کو پارٹی نے نہ صرف فکر انگیز قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ حکومت کو اس معاملے میں تساہلی والا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ایک دیگر سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے ’انڈیا ٹوڈے‘ کے حوالہ سے سائبر حملہ کی جانکاری دی ہے اور اس کے کیپشن میں لکھا ہے ’’مودی ہے تو ممکن ہے۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں