پنجاب میں آج سے 3 لاکھ سرکاری ملازمین کی ہڑتال، پبلک ٹرانسپورٹ و دیگر خدمات متاثر ہونے کا امکان

پنجاب میں بیک وقت 3 لاکھ سرکاری ملازمین ہڑتال پر جا رہے ہیں۔ اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین بدھ اور جمعرات کے روز اجتماعی طور پر تعطیل پر رہیں گے۔ ملازمین کی دو روزہ تحریک کی وجہ سے ریاست بھر میں سرکاری دفاتر کا کام کاج متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔ اس کا اثر چنڈی گڑھ میں واقع پنجاب سول سکریٹریٹ کے کام کاج پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب روڈویز اور پی آر ٹی سی کی بس خدمات بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ پنجاب حکومت کے ملازمین نے اپنے زیر التوا مطالبات کو لے کر گزشتہ کئی ماہ سے محاذ کھول رکھا ہے۔ ملازمین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر متوقع کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اسی کے خلاف ملازمین نے دو روز تک اجتماعی تعطیل لے کر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سول سکریٹریٹ کی ’جوائنٹ ایکشن کمیٹی‘ کے جنرل سکریٹری ساحل شرما نے کہا کہ تقریباً 3  لاکھ ملازمین آج اور کل اجتماعی طور پر تعطیل پر جا رہے ہیں۔ اس کا اعلان پہلے ہی کر دیا گیا تھا۔ آج ملازمین کام نہیں کریں گے اور حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے۔ دونوں دن ملازمین کام کاج سے دور رہ کر حکومت کے خلاف مظاہرہ کریں گے اور اپنے مطالبات اٹھائیں گے۔ شرما کے مطابق ملازمین طویل عرصے سے اپنے مطالبات کو لے کر حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں، لیکن اب تک کوئی اطمینان بخش حل نہیں نکلا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا جاتا، تب تک تحریک جاری رہے گی۔ اپنے مطالبات کی تفصیل بتاتے ہوئے شرما نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق زیر التوا ڈی اے (مہنگائی بھتہ) جاری کرے، پرانی پنشن اسکیم بحال کرے، عارضی ملازمین کو مستقل کرے، پروبیشن پیریڈ کے دوران تنخواہ سے متعلق مسائل حل کرے اور دیگر کئی مطالبات پورے کرے۔

ساحل شرما نے کہا کہ ملازمین چاہتے ہیں کہ پنجاب حکومت ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق زیر التوا مہنگائی بھتے کی ادائیگی کرے۔ ان کے مطابق ملازمین کو 18  فیصد مہنگائی بھتہ دیا جانا ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے حال ہی میں ہونے والی ملاقات کے بعد صرف 8  فیصد ڈی اے دیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ ملازمین اسے اپنے مطالبات کے مقابلے میں ناکافی سمجھ رہے ہیں۔ تحریک کے تحت بدھ کے روز چنڈی گڑھ میں واقع پنجاب سول سکریٹریٹ کی عمارت میں ملازمین دھرنا دیں گے۔ اس دوران وہ اپنے مطالبات دہراتے ہوئے حکومت سے جلد حل نکالنے کی اپیل کریں گے۔ اجتماعی تعطیل کی وجہ سے مختلف سرکاری محکموں میں کام کاج کی رفتار سست پڑ سکتی ہے اور عام لوگوں کو اپنے سرکاری کام نمٹانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سرکاری دفاتر کے علاوہ ریاست کی عوامی ٹرانسپورٹ خدمات بھی اس تحریک سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ملازمین کی تحریک کی وجہ سے پنجاب روڈویز اور پیپسو روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (پی آر ٹی سی) کی ہزاروں بسوں کی آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے۔ بسوں میں کام کرنے والے کنٹریکٹ ڈرائیور، کنڈکٹر اور مکینک مستقل کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان ملازمین کی ہڑتال سے ریاست کے اہم راستوں پر بسوں کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس سے روزانہ بسوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں، نوکری پیشہ افراد اور دیگر مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں