دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی کی مخالف ہیں اور محض مقبول بیانیے کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتیں۔عاصمہ شیرازی
مطیع اللہ جان اور عاصمہ شیرازی میں شدید جھڑپ یزید کا ذکر
مطیع اللہ جان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا تھا:
’’عجب تیرا تجزیہ، عجب تیرا بیان یزید سے بھی مراسم، حسینؓ کو بھی سلام‘‘
عاصمہ شیرازی نے اس ٹویٹ کو کوٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اکثر مطیع اللہ جان کے اندازِ بیان اور صحافت پر افسوس ہوتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مطیع اللہ جان سرکاری ملازمت میں تھے تو وہ جنرل پرویز مشرف کی تعریف کرتے تھے، کیا یہ بھی یزید سے مراسم کے مترادف نہیں تھا؟
عاصمہ شیرازی نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی کی مخالف ہیں اور محض مقبول بیانیے کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے دور سے لے کر اب تک ہنگامی اقدامات کی مخالفت کی ہے۔
انہوں نے مطیع اللہ جان پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک منظم پیڈ ٹرول کے مبینہ طور پر گالیوں پر مشتمل ٹویٹ کو کوٹ کرنا ان کے لیے حیران کن ہے۔
دونوں صحافیوں کے درمیان یہ بیان بازی سیاسی مؤقف اور صحافتی طرزِ اظہار سے متعلق اختلافات کو نمایاں کرتی ہے۔