عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی کی بڑی وجوہات میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں شامل ہیں
عوام کو مہنگے پیٹرول نے جلا دیا،پاکستانی تیل کمپنیوں کو ہزار فیصد منافع
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے جہاں عوام کے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا، وہیں توانائی کے شعبے سے وابستہ متعدد کمپنیوں کے منافع میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ خاص طور پر آئل ریفائنریز کے مالی نتائج میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار فیصد سے زیادہ اضافہ سامنے آیا ہے۔
کمپنیوں کی مالیاتی رپورٹس کے مطابق خام تیل اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں فرق بڑھنے، سپلائی میں رکاوٹوں اور ذخیرہ شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے اس منافع میں اہم کردار ادا کیا۔
عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی کی بڑی وجوہات میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں شامل ہیں۔ اس صورت حال نے تیل کی عالمی تجارت اور رسد کو متاثر کیا، جس کے اثرات پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور توانائی کی ترسیل گزرتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹوں اور خطے میں کشیدگی کے باعث خام تیل، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
پاکستان میں بھی اس عرصے کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھیں۔ مہنگے ایندھن کے اثرات نقل و حمل، اشیائے ضروریہ اور دیگر شعبوں میں محسوس کیے گئے، جبکہ مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج تین بڑی آئل ریفائنریز کے مالی نتائج میں نمایاں بہتری سامنے آئی۔
اٹک ریفائنری کا خالص منافع گزشتہ سال جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں 1.45 ارب روپے تھا، جو رواں سال اسی عرصے میں بڑھ کر 18.65 ارب روپے ہوگیا۔ اس طرح کمپنی کے منافع میں تقریباً 1184 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
نیشنل ریفائنری کا خالص منافع بھی 1.03 ارب روپے سے بڑھ کر 11.57 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو تقریباً 1029 فیصد اضافہ ہے۔
اسی طرح پاکستان ریفائنری لمیٹڈ نے گزشتہ سال کی متعلقہ سہ ماہی میں 1.02 ارب روپے خالص منافع کمایا تھا، جبکہ رواں سال یہ رقم بڑھ کر 13.97 ارب روپے ہوگئی۔ کمپنی کے منافع میں تقریباً 1274 فیصد اضافہ ہوا۔
صرف ریفائنریز ہی نہیں بلکہ تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے وابستہ کمپنیوں نے بھی منافع میں اضافہ رپورٹ کیا۔
پاکستان آئل فیلڈز کا خالص منافع گزشتہ سال کی جولائی تا ستمبر سہ ماہی میں 5.43 ارب روپے تھا، جو رواں سال بڑھ کر 8.19 ارب روپے ہوگیا۔ اس طرح منافع میں تقریباً 51 فیصد اضافہ ہوا۔
آئل مارکیٹنگ کے شعبے میں بھی مثبت مالی نتائج سامنے آئے۔ اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ کا خالص منافع 3.81 ارب روپے سے بڑھ کر 6.64 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 74 فیصد زیادہ ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ہی عرصے میں صارفین کو مہنگے ایندھن کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ توانائی کے شعبے کی کئی کمپنیوں کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کی عالمی قیمتوں کے درمیان فرق میں اضافہ ہے۔
تیل و گیس کے شعبے سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے والے زاہد میر کے مطابق ریفائنریز کی آمدن کا اہم پیمانہ خام تیل کی قیمت اور اس سے تیار ہونے والے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان فرق ہے۔ اسے گراس ریفائنری مارجن یا کریک اسپریڈ کہا جاتا ہے۔
ان کے مطابق جنگ سے پہلے پیٹرول کے کریک اسپریڈ میں تقریباً 12 ڈالر فی بیرل کا فرق تھا، جو بڑھ کر 26 سے 27 ڈالر تک پہنچ گیا۔ ڈیزل کا کریک اسپریڈ بھی 12 سے 15 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 50 ڈالر تک جا پہنچا۔
زاہد میر کا کہنا ہے کہ تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں خام تیل کے مقابلے میں زیادہ اضافے نے ریفائنریز کے منافع کو بہتر بنایا۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں نے بھی ڈیزل سمیت مختلف مصنوعات کی دستیابی متاثر کی۔
مشرق وسطیٰ میں بعض ریفائنریز کی پیداوار میں کمی اور کویت سے سپلائی متاثر ہونے کے باعث بھی مارکیٹ میں دباؤ پیدا ہوا۔ باب المندب اور دیگر اہم بحری راستوں پر سکیورٹی خدشات نے رسد اور قیمتوں کو مزید متاثر کیا۔
سرمایہ کاری اور اسٹاک مارکیٹ سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے توانائی و بینکاری شعبے کے تجزیہ کار اسد علی کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع میں اضافے کی ایک اہم وجہ انوینٹری گین بھی ہے۔
انوینٹری گین سے مراد ذخیرہ شدہ مصنوعات کی قیمت بڑھنے سے حاصل ہونے والا مالی فائدہ ہے۔ جب کوئی کمپنی نسبتاً کم قیمت پر پیٹرولیم مصنوعات خرید کر ذخیرہ کرتی ہے اور بعد میں مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو ان مصنوعات کی فروخت سے اسے اضافی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ضابطہ جاتی تقاضوں کے تحت ایندھن کا مخصوص ذخیرہ برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے قیمتوں میں اضافے کے دوران پہلے سے موجود ذخیرے کی قدر بڑھنے سے ان کے مالی نتائج بہتر ہوسکتے ہیں۔
اسد علی کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، ترسیل کے اخراجات اور رسد سے متعلق خدشات نے بھی اس شعبے کی کاروباری صورت حال پر اثر ڈالا۔
معاشی امور کے تجزیہ کار خرم حسین کے مطابق ریفائننگ مارجن میں اضافہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس کے اثرات سامنے آئے۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے تیار شدہ ایندھن، خصوصاً ڈیزل کی سپلائی کو متاثر کیا۔ چونکہ کئی ممالک خلیجی ریفائنریز سے تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات حاصل کرتے ہیں، اس لیے رسد میں کمی کے باعث ان مصنوعات کی قیمتیں خام تیل کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھیں۔
امریکی توانائی کمپنی ولیرو انرجی کے جاری کردہ مالیاتی نتائج میں بھی منافع میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق کمپنی کا خالص سہ ماہی منافع 1.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.8 ارب ڈالر ہوگیا، جبکہ ریفائننگ شعبے کا آپریٹنگ منافع 1.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس صارفین کو عالمی قیمتوں کے اثرات سے کچھ تحفظ دینے کے لیے مختلف پالیسی آپشن موجود ہیں۔ ان میں ریفائنری مارجن کی بالائی حد مقرر کرنا، ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنا اور حاصل ہونے والی آمدن کو صارفین کے لیے سبسڈی کی صورت میں استعمال کرنا شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حکومت پاکستان ڈیزل کے کریک اسپریڈ پر پہلے ہی بالائی حد مقرر کرچکی ہے، جس کا مقصد عالمی منڈی میں مارجن بڑھنے کے اثرات کو مقامی صارفین تک مکمل طور پر منتقل ہونے سے روکنا ہے۔
ابتدائی طور پر یہ حد 41.89 ڈالر فی بیرل مقرر کیے جانے کی اطلاعات تھیں، جبکہ بعد کی رپورٹس میں اسے مزید کم کرکے 38 ڈالر فی بیرل کرنے کا ذکر کیا گیا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی 20 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کریک اسپریڈ پر اس حد کے اطلاق سے آئل ریفائنریز کے منافع پر دباؤ پڑسکتا ہے اور مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی میں مجموعی مارجن کم ہونے کا امکان ہے۔
یوں عالمی توانائی بحران نے پاکستان میں ایک طرف ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ کیا، تو دوسری جانب آئل ریفائنریز اور تیل سے وابستہ بعض کمپنیوں کے منافع کو بھی نمایاں طور پر بڑھایا۔ تاہم مستقبل میں ان کمپنیوں کی آمدن کا انحصار عالمی قیمتوں، رسد کی صورت حال اور حکومتی پالیسیوں پر رہے گا۔