کراچی:گلستانِ جوہر واقعے پر خاتون کا ویڈیو بیان سامنے آگیا
کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر، جوہر موڑ پر ٹریفک حادثے کے بعد خاتون کی ہنگامہ آرائی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے، جس میں انہوں نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ لوگوں نے انہیں گھیر کر ہراساں کیا اور تشدد کی دھمکیاں دیں۔
خاتون کے مطابق ان کی گاڑی رکشے سے ٹکرا گئی تھی، جس کے بعد وہ یہ دیکھنے کے لیے گاڑی سے باہر نکلیں کہ کہیں کسی شخص کو چوٹ تو نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ مسلسل سوال کر رہے تھے کہ وہ گاڑی سے کیوں اتریں، حالانکہ ان کے بقول وہ صرف صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے باہر آئی تھیں۔
ویڈیو بیان میں خاتون نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو وہ اس کی تلافی کیسے کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق موقع پر موجود افراد نے انہیں ’دوسری نتاشا‘ کہنا شروع کر دیا اور مبینہ طور پر لوگوں کو انہیں مارنے کے لیے بھی اکسایا۔
خاتون نے بتایا کہ ہجوم میں موجود بعض افراد یہ کہتے رہے کہ خواتین کو گاڑی چلانا نہیں آتی تو وہ سڑک پر کیوں آتی ہیں، جبکہ انہیں پکڑنے اور مارنے کی باتیں بھی کی گئیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اس دوران ان کا موبائل فون اور بیگ غائب ہوگئے۔ خاتون کے مطابق وہ مسلسل اپنا فون اور گاڑی کی چابی واپس مانگتی رہیں تاکہ وہاں سے جا سکیں، لیکن انہیں شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ اس صورتحال میں ان کے پاس دو راستے تھے، یا تو وہ خوف زدہ ہو کر خاموش ہو جاتیں یا رونے لگتیں، جس سے ان کے بقول ہجوم کو ایک بے بس لڑکی پر ہاتھ اٹھانے کا مزید موقع مل سکتا تھا۔
دوسری جانب، پولیس کے مطابق واقعہ رکشے اور کار کے درمیان تصادم کے بعد پیش آیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خاتون کو شاہراہ فیصل تھانے منتقل کیا گیا تھا۔ واقعے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے۔