موساد کی ویڈیو پر ایران میں 21 ہزار افراد کی گرفتاری کا دعویٰ،اسرائیلی مذاق اڑانے لگے

 ایران پر اسرائیلی حملوں کے آغاز پر خفیہ آپریشن سے متعلق ویڈیو اور تصاویر جان بوجھ کر جاری کی گئی تھیں

October 29, 2026 · امت خاص

موساد کی ویڈیو پر ایران میں 21 ہزار افراد کی گرفتاری کا دعویٰ،اسرائیلی مذاق اڑانے لگے

موساد کی ویڈیو پر ایران میں 21 ہزار افراد کی گرفتاری کا دعویٰ،اسرائیلی مذاق اڑانے لگے

ایران پر حملوں کے دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو اور اس کے بعد ہزاروں افراد کی گرفتاریوں کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آگیا ہے۔ موساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ برنیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ویڈیو اور تصاویر جان بوجھ کر جاری کی گئی تھیں تاکہ ایرانی سکیورٹی ادارے مشتبہ افراد کی تلاش میں الجھ جائیں اور حقیقی اسرائیلی ایجنٹوں کی شناخت مشکل ہوجائے۔ ان کے اس بیان کے بعد اسرائیلی حلقوں میں بھی اس کارروائی کے مقصد اور اس کے نتائج پر تبصرے ہونے لگے ہیں۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق 13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران پر حملوں کا آغاز کیا تو کچھ ہی دیر بعد موساد کے سرکاری لوگو کے ساتھ ایک ویڈیو بھی سامنے آئی۔ اس میں مبینہ موساد اہلکاروں کو ایرانی سرزمین پر فوجی سازوسامان تیار اور نصب کرتے دکھایا گیا تھا۔ اسرائیلی حکام نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ یہ کارروائی ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھی۔

جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں خفیہ ایجنسی کی سرگرمیوں سے متعلق ویڈیو جاری کرنا غیر معمولی اقدام سمجھا گیا، کیونکہ خفیہ کارروائیوں میں عموماً ایجنٹوں کی شناخت اور ان کے طریقۂ کار کو پوشیدہ رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

موساد کے سابق سربراہ کا 21 ہزار گرفتاریوں سے متعلق دعویٰ

بارہ روزہ اسرائیل ایران جنگ کے تقریباً 16 ماہ بعد موساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ برنیا نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی ایجنسی نے ویڈیو اور تصاویر دانستہ طور پر جاری کی تھیں۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایرانی سکیورٹی اداروں کو مشتبہ افراد کی تلاش میں مصروف کرنا تھا، تاکہ وہ بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کریں اور اس دوران موساد کے حقیقی ایجنٹوں کی شناخت مشکل ہوجائے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق برنیا نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوسرے ہی روز ایران میں 21 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موساد کے 99.9 فیصد ایجنٹوں کی شناخت نہیں ہوسکی اور اس کارروائی میں شامل بعض ایجنٹ اب بھی تہران میں موجود ہیں۔

تاہم ایرانی حکام اور موساد کے سابق سربراہ کے بیانات میں گرفتاریوں کے وقت اور مدت کے حوالے سے فرق موجود ہے۔ ایران کی سکیورٹی کمانڈ کے ترجمان سعید منتظرالمہدی نے 11 اگست 2025 کو اعلان کیا تھا کہ بارہ روزہ جنگ کے دوران تقریباً 21 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ایرانی حکام نے اس تعداد کو پوری جنگ کے دوران ہونے والی گرفتاریوں سے منسلک کیا، جبکہ برنیا نے اسے جنگ کے دوسرے دن کی کارروائی قرار دیا۔

برنیا نے مزید دعویٰ کیا کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد بعد میں رہا کردیے گئے تھے۔ ان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعاون کے الزام میں گرفتار یا سزائے موت پانے والے بعض افراد کا موساد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں۔

ویڈیو جاری کرنے کا مقصد کیا تھا؟

برطانیہ کی ایبرسٹوِتھ یونیورسٹی میں انٹیلیجنس اداروں کی تاریخ پر تحقیق کرنے والی اویوا گٹمین نے بی بی سی فارسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ویڈیو اور تصاویر جاری کرنے کا مقصد طاقت کا اظہار اور جنگ کے بیانیے پر اثرانداز ہونا تھا۔

ان کے مطابق اس اقدام سے اسرائیلی عوام کا حوصلہ بڑھانے کے ساتھ ایرانی سکیورٹی اداروں کے اندر شکوک و شبہات اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جاسکتی تھی۔ اگر سکیورٹی اداروں کو یہ خدشہ لاحق ہوجائے کہ ان کے اپنے افراد میں بھی دشمن کے ایجنٹ موجود ہیں تو باہمی اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔

گٹمین اس حکمت عملی کو معلوماتی اور بیانیاتی جنگ کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔ ان کے مطابق خفیہ ادارے اب صرف خفیہ کارروائیاں کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ اپنی کامیابیوں کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کرکے عوامی تاثر پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ موساد چاہتا تھا کہ اس کی کارروائی کو اسرائیل کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے طور پر دیکھا جائے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے یہ تاثر بھی پیدا کیا جاسکتا تھا کہ اسرائیلی ایجنٹ ایرانی سکیورٹی نظام کے اندر وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔

ایران میں گرفتاریوں اور انسانی حقوق پر تشویش

جون 2025 کی جنگ کے دوران ایرانی سکیورٹی اداروں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کے شبے میں متعدد افراد کی گرفتاریوں کا اعلان کیا تھا۔ شہریوں سے مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینے کی اپیل بھی کی گئی، جبکہ مختلف شہروں میں چیک پوسٹیں قائم کی گئیں اور جاسوسی کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی بات کی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 20 جون 2025 کو تشویش ظاہر کی تھی کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کے الزامات میں گرفتار افراد کو من مانی حراست، تشدد اور سزائے موت کے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تنظیم نے ایرانی حکام پر زور دیا تھا کہ زیرِ حراست افراد کے حقوق کا احترام کیا جائے۔

اویوا گٹمین کے مطابق موساد کی حکمت عملی کا ایک ممکنہ مقصد ایرانی سکیورٹی اداروں کو اس قدر شکوک میں مبتلا کرنا تھا کہ ہر شخص دوسرے کو مشتبہ سمجھنے لگے۔ ان کے خیال میں ایسی صورت حال میں حقیقی ایجنٹوں کی تلاش مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

خفیہ ادارے اپنی کارروائیوں کی ویڈیوز کیوں جاری کرتے ہیں؟

گٹمین کے مطابق خفیہ کارروائیوں سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز جاری کرنے کا طریقہ صرف موساد تک محدود نہیں۔ روسی فوجی تنصیبات پر یوکرین کے ڈرون حملوں کی ویڈیوز اور داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں کی تصاویر بھی اس نوعیت کی مثالیں ہیں۔

ان کے مطابق ایسی ویڈیوز کا مقصد اندرونِ ملک فوجی اور عوامی حوصلہ بڑھانا اور مخالف فریق کے حوصلے پست کرنا ہوسکتا ہے۔ جدید دور میں موبائل فون کیمروں، نگرانی کے نظاموں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی نے خفیہ رہنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل بنادیا ہے۔

گٹمین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات انٹیلیجنس ادارے معلومات کے افشا کو خطرے کے بجائے اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی کارروائیوں کے منتخب حصے خود منظرِ عام پر لاکر واقعات کی تشریح اور عوامی بیانیے پر اپنا اثر برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کے مطابق موساد کی جانب سے معلومات جاری کرنے کے خطرات محدود ہوسکتے ہیں، کیونکہ ایک خفیہ ادارہ عموماً وہی تفصیلات سامنے لانے کا فیصلہ کرتا ہے جن سے اس کے خیال میں ایجنٹوں کی شناخت یا مستقبل کی کارروائیوں کو نقصان پہنچنے کا امکان کم ہو۔

موساد کی پرانی حکمت عملی اور معلوماتی جنگ

معلومات کے ذریعے عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوشش موساد کے لیے نئی نہیں۔ گٹمین نے 2024 میں شائع ہونے والی اپنی ایک تحقیق میں 1970 کی دہائی کی دستاویزات کا جائزہ لیا تھا، جن میں موساد کی جانب سے معلوماتی نیٹ ورک اور دوست ممالک کے سکیورٹی اداروں سے تعلقات کے استعمال کا ذکر تھا۔

یہ تحقیق 1972 کے میونخ اولمپکس میں 11 اسرائیلی کھلاڑیوں کے قتل کے بعد شروع کی گئی اسرائیلی خفیہ مہم، جسے آپریشن ریتھ آف گاڈ کہا جاتا ہے، سے متعلق تھی۔ اس مہم میں فلسطینی مسلح گروہوں، خصوصاً بلیک ستمبر سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا گیا، تاہم نشانہ بننے والے تمام افراد کا میونخ حملے سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔

تحقیق کے مطابق اپریل 1973 میں موساد نے یورپی سکیورٹی اداروں کو خبردار کیا تھا کہ فلسطینی گروہ کار بم دھماکے کرسکتے ہیں۔ تقریباً دو ماہ بعد روم میں دو فلسطینیوں اور پیرس میں فلسطین نواز ایک الجزائری کارکن کو نشانہ بنایا گیا۔ گٹمین کے مطابق پہلے سے دی گئی وارننگز بعد میں ہونے والی کارروائیوں کے ذمہ داروں سے متعلق شکوک کا رخ اسرائیل سے ہٹانے میں مددگار ہوسکتی تھیں۔

ان کے مطابق اس حکمت عملی میں قابلِ اعتماد معلومات کے ساتھ گمراہ کن معلومات شامل کرکے مخصوص تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ تاہم 1970 کی دہائی کی اس حکمت عملی اور 2025 میں ایران کے اندر کارروائیوں سے متعلق ویڈیوز جاری کرنے کے طریقے میں فرق موجود ہے۔

کیا موساد کا دعویٰ ثابت ہوسکتا ہے؟

کینیڈا کی سائمن فریزر یونیورسٹی میں شعبۂ ابلاغ کے پروفیسر اور ڈس انفارمیشن کے محقق احمد الراوی کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد مخالف فریق کے سامنے اپنی طاقت اور اثرورسوخ کا تاثر قائم کرنا بھی ہوتا ہے۔ ان کے بقول اس طرح کے دعوے کسی حکومت کو کمزور اور غیر مستحکم ظاہر کرسکتے ہیں اور اس کے سکیورٹی اداروں کو ایسے مشتبہ افراد کی تلاش میں مصروف کرسکتے ہیں جن کی موجودگی کی تصدیق نہ ہو۔

بارہ روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایرانی عوام سے براہِ راست رابطے کی کوشش بھی کی تھی۔ 18 جون 2025 کو اسرائیلی فوج کے فارسی زبان کے ایکس اکاؤنٹ نے ایران کے مستقبل کے بارے میں فکر مند افراد کو موساد کی ویب سائٹ کے ذریعے رابطہ کرنے کی ترغیب دی تھی۔ اس اقدام کے بارے میں بھی سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا مقصد انٹیلیجنس ذرائع حاصل کرنا تھا، نفسیاتی دباؤ بڑھانا تھا یا دونوں مقاصد حاصل کرنا تھے۔

احمد الراوی کے مطابق ڈیوڈ برنیا کے بیانات کو بھی ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے، تاہم اس مخصوص دعوے کی تصدیق کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ موجود نہیں کہ ویڈیو اور تصاویر جاری کرنے سے موساد کے ایجنٹوں کو تحفظ ملا یا ایرانی سکیورٹی اداروں میں پیدا ہونے والی الجھن میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران کو جنگ کے دوران مسلسل حملوں کا سامنا تھا، اس لیے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ گرفتاریوں اور سکیورٹی اداروں میں ممکنہ بداعتمادی میں موساد کی ویڈیو کا کتنا کردار تھا۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں