جموں/جموں میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کے دفتر میں تعینات ایک سب انسپکٹر کو ایک خاتون کی جانب سے بدسلوکی اور واٹس ایپ پر نامناسب پیغامات بھیجنے کے الزامات کے بعد محکمانہ انکوائری مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون نے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) جموں تیجندر سنگھ کو تحریری شکایت پیش کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا کہ مذکورہ افسر نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک پولیس اہلکار کے تبادلے میں مدد فراہم کرنے کے عوض ذاتی نوعیت کے مطالبات کیے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے فوراً بعد متعلقہ سب انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ محکمانہ انکوائری کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
شکایت کے مطابق، خاتون نے مذکورہ افسر سے ایک پولیس اہلکار کے تبادلے میں مدد کی درخواست کی تھی، جس کے والد صاحبِ فراش تھے۔ خاتون کا الزام ہے کہ اس کے بعد سب انسپکٹر نے انہیں واٹس ایپ پر نامناسب پیغام بھیجا اور تبادلے میں مدد کے بدلے ملاقات کرنے اور ایک ہوٹل میں قیام کرنے کے لیے کہا۔
خاتون نے مزید الزام لگایا کہ متعلقہ افسر نے اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے انہیں مسلسل نامناسب پیغامات بھیجے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افسر نے اسپیشل پولیس آفیسرز (ایس پی اوز) کی بھرتی کے سلسلے میں دیگر خواتین سے بھی واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا تھا۔
شکایت میں خاتون نے الزام لگایا کہ افسر نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرکے محکمہ پولیس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے قانون کے تحت متعلقہ افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
خاتون نے اپنے الزامات کی تائید میں آئی جی پی جموں کو واٹس ایپ پیغامات کے اسکرین شاٹس بھی پیش کیے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ افسر نے مختلف خواتین کو بھیجے تھے۔
واضح رہے کہ یہ تمام الزامات شکایت میں کیے گئے دعوؤں پر مبنی ہیں، جن کی تصدیق محکمانہ انکوائری کے نتائج کے بعد ہوگی۔
وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
Load/Hide Comments