مغربی بنگال میں نئے اساتذہ کے انتخاب لڑنے پر پابندی، سی پی ایم کا عدالتی چیلنج کا اعلان

کولکاتا: ریاست مغربی بنگال میں بھرتی ہونے والے نئے اساتذہ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے مجوزہ فیصلے کی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے مخالفت کی ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر یہ شرط سرکاری طور پر بھرتی کے قواعد کا حصہ بنی تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

سی پی ایم کے سابق رکنِ راجیہ سبھا اور سینئر وکیل وکاس رنجن بھٹاچاریہ نے کہا کہ جیسے ہی حکومت کی تجویز مغربی بنگال مرکزی اسکول سروس کمیشن (ڈبلیو بی ایس ایس سی) کے بھرتی قواعد میں باضابطہ طور پر شامل ہوگی، وہ اس معاملے کو قانونی طور پر اٹھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :

کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے سابق میئر بھٹاچاریہ نے کہا کہ عام شہریوں کے جمہوری حقوق دبانا آسان نہیں ہوگا اور ایسی کسی بھی کوشش کی قانونی مخالفت کی جائے گی۔ ان کے مطابق اساتذہ کو انتخاب لڑنے سے روکنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کے باضابطہ نفاذ کے بعد وہ معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ لے جائیں گے۔

اس سے قبل بدھ کو وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اعلان کیا تھا کہ ڈبلیو بی ایس ایس سی کے بھرتی قواعد میں نئی شرط شامل کی جائے گی، جس کے تحت آئندہ بھرتی ہونے والے اساتذہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ ریاستی کابینہ نے بھی بدھ کے روز اپنے اجلاس میں اس تجویز کی منظوری دی۔

یہ بھی پڑھیں :

وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی کہ یہ پابندی پہلے سے ملازمت کرنے والے ان اساتذہ پر لاگو نہیں ہوگی جو پہلے ہی منتخب عوامی نمائندے ہیں۔ تاہم، اس فیصلے پر صرف سی پی ایم ہی نے اعتراض نہیں کیا؛ زیرِ ملازمت اساتذہ کے ایک گروپ نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔

مخالف اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ اس دلیل سے متفق نہیں کہ نئے اساتذہ کو انتخاب لڑنے سے روکنے کا مقصد تعلیم کے شعبے کو سیاست سے پاک کرنا ہے۔ ایک سرکاری اعلیٰ ثانوی اسکول کے پرنسپل نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ واقعی تعلیم کو سیاست سے الگ رکھنے میں سنجیدہ ہوتے تو تعلیمی امور سے متعلق مختلف کمیٹیوں سے سیاسی شخصیات کو بھی ہٹایا جاتا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ پرنسپل کے مطابق مغربی بنگال کے تعلیمی قوانین اور قواعد اسکول اساتذہ کو فعال سیاست میں حصہ لینے سے نہیں روکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ قانون میں ترمیم کیے بغیر نئی شرط نافذ کی گئی تو اسے قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں