(29 اکتوبر 2026): گھروں کا کچرا روڈوں یا کوڑا دانوں میں پھینکا جاتا ہے لیکن کچرا پھینکنے کے بجائے اسے جمع کرا کے مفت کھانا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہر گھر میں فالتو سامان جیسا کہ پرانے اخبار کی ردی، پلاسٹک کا سامان، پرانی کتابیں اور دیگر سامان کچرے کی حیثیت رکھتا ہے، جو لوگ عموماً پھینک دیتے ہیں۔
اگر آپ بھی ایسا کرتے ہیں تو آئندہ ایسا نہ کریں بلکہ یہ کچرا لے کر کچرا کیفے جائیں اور اس کے بدلے اپنے لیے مفت کھانا لے کر آئیں۔ تاہم یہ سہولت حاصل کرنے کے لیے بھوپال کا شہری ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ منفرد کیفے بھارت کے شہر بھوپال میں کھولے گئے ہیں۔
Inside India’s first Kachra Cafe, where Bhopal residents exchange household waste for food, drinks and other essentials
https://t.co/p1DE1GOeUV
— Mint (@livemint)
بھارتی میڈیا کے مطابق بھوپال میں کئی مقامات پر ایسے کچرا کیفے شروع کیے گئے ہیں، جن کے قیام کا مقصد شہر کو صاف ستھرا رکھنا اور کچرے کا مفید استعمال کرنا ہے۔ ان کیفیز میں صرف پلاسٹک ہی نہیں بلکہ کئی طرح کا گھریلو کچرا قبول کیا جاتا ہے۔ اس میں پرانے اخبار، کتابیں، کاغذ، گتے کے ڈبے، ای-ویسٹ اور پرانے کپڑے جیسی چیزیں شامل ہیں۔
کچرا کیفے کا ماڈل کافی دلچسپ ہے، یہاں لوگ گھروں سے اکٹھا کیا گیا خشک کچرا لے کر پہنچتے ہیں۔ سامان کا وزن اور اس کا زمرہ جانچنے کے بعد اس کے بدلے پوائنٹس یا کچرا کرنسی دی جاتی ہے۔ ان پوائنٹس کا استعمال کر کے لوگ کیفے سے کھانا، چائے، کافی اور دیگر دستیاب چیزیں لے سکتے ہیں۔
Bhopal’s Kachra Café isn’t just recycling waste…it’s recycling the way we think! It is a unique model where people can exchange plastic and other waste for food and essential items. If you too want to be part of the change, visit the Kachra Café at least once and do your part for the city!
@kachracafe
#KachraCafe #Bhopal #CivicSense [Kachra Cafe Bhopal, Garbage Cafe India, Plastic Recycling India, Waste Management India, Bhopal Municipal Corporation, Swachh Bharat, Recycling Ideas India, Eco Friendly India, Plastic Waste Solution]
— The Better India (@thebetterindia)
لوگوں کو ملنے والے پوائنٹس کا استعمال کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ روزمرہ کی ضرورتوں کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔
’سیلف ہیلپ گروپس‘ سے وابستہ خواتین کیفے کے انتظام اور کارآمد مصنوعات تیار کرنے جیسے کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔ اس سے انہیں روزگار کے مواقع ملتے ہیں اور مقامی سطح پر تیار ہونے والے سامان کو بازار تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔