سرینگر/لداخ انتظامیہ نے سماجی کارکن سونم وانگچک کے ادارہ ’ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹیوز‘ (ایچ آئی اے ایل) کے اسکول سے متعلق نوٹس جاری کیا ہے۔ انتظامیہ نے لیہہ میں واقع ’ڈیزرٹ فلاور اسکول‘ کی تمام سرگرمیاں بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ پابندی جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے یا اگلے حکم تک برقرار رہے گی۔ دراصل، لیہہ کے تحصیلدار دفتر نے یکم نومبر کو یہ نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس ایچ آئی اے ایل کی شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو افسر گیتانجلی جے آنگمو کے نام بھیجا گیا ہے۔ گیتانجلی کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ سونم وانگچک کی اہلیہ ہیں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کو اطلاع ملی تھی کہ فیانگ واقع ’ڈیزرٹ فلاور اسکول‘ میں ضروری رضامندی، منظوری اور اجازت حاصل کیے بغیر کلاسز اور دیگر سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے 22 ستمبر کو لکھے گئے ایک خط کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے مطابق گیتانجلی آنگمو نے اسکول کی مجوزہ انتظامی کمیٹی کے ارکان کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) طلب کیا تھا۔ یہ اسکول ایچ آئی اے ایل کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت چلایا جاتا ہے۔
یہ تنازعہ ایچ آئی اے ایل کو الاٹ کی گئی زمین سے متعلق ہے۔ انتظامیہ نے ادارے کو الاٹ کی گئی 1076 کنال اور ایک مرلہ زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی تھی۔ یہ زمین تقریباً 134.5 ایکڑ اور ایک مرلہ کے برابر ہے۔ اس فیصلے کے خلاف معاملہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ انتظامیہ نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ معاملہ ابھی عدالت میں زیر غور ہے، اس لیے حتمی فیصلہ آنے تک اسکول کے انتظام یا سرگرمیاں شروع کرنے کے سلسلے میں کوئی مزید قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔
تحصیلدار دفتر نے ایچ آئی اے ایل اور گیتانجلی آنگمو کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے میں جوں کی توں صورت حال برقرار رکھیں۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے جس سے ہائی کورٹ میں زیر التوا معاملے پر اثر پڑے۔ اس ہدایت کا مطلب ہے کہ ڈیزرٹ فلاور اسکول کی تمام سرگرمیاں فی الحال بند رکھنی ہوں گی۔ یہ پابندی ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے یا اس کی جانب سے کسی نئے حکم تک نافذ رہے گی۔
وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
Load/Hide Comments