سپریم کورٹ نے انسداد چائلڈ لیبر ایکٹ کی نگرانی کے لیے مرکزی حکومت کو خصوصی سیل بنانے کی ہدایت دی

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو انسداد چائلڈ لیبر ایکٹ کے نفاذ کی نگرانی کی لیے ایک خصوصی سیل بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت کے سکریٹری کو ہدایات دی ہیں۔ اس کے مطابق ایک خصوصی سیل تشکیل دیا جائے گا۔ یہ سیل ’چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ لیبر قانون‘ کے نفاذ کی نگرانی کرے گا۔ ساتھ ہی یہ یقینی بنائے گا کہ اس کے التزامات پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کے ذریعہ نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کو ہدایات جاری کریں، تاکہ اس قانون کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔

جسٹس ایس وی این بھٹی اور جسٹس این وی انجاریہ کی بنچ نے دائر عرضی کو نمٹاتے ہوئے یہ ہدایت دی ہے۔ اس عرضی میں ’چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ لیبر قانون‘ کے التزمات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ قانون کی دفعہ 3 کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ بنیادی طور پر اس دفعہ کے تحت بچوں کو صرف کچھ خاص خطرناک کاموں میں لگانے پر ہی پابندی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس قانون میں 2016 میں کی گئی ترمیم کا حوالہ دیا، جس کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی طرح کے کام یا عمل میں لگانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ ترمیم بچوں کو اسکول کے اوقات کے بعد یا چھٹیوں کے دوران قانونی شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے خاندان کے ایسے کاروباروں میں مدد کرنے کی اجازت دیتا ہے جو خطرناک نہیں ہے۔ بنچ نے کہا کہ قانون میں کی گئی تبدیلیوں کے پیش نظر رِٹ عرضی میں کیے گئے مطالبات اب غور کے قابل نہیں رہ گئے ہیں۔ حالانکہ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ ترمیم شدہ قانون پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرنا متعلقہ افسران کی ذمہ داری ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں