’دنیا میں ایسا کہیں نہیں دیکھا کہ برسراقتدار طبقہ اپوزیشن کے خلاف ریلی نکال رہا ہو‘، راج ٹھاکرے کا مودی حکومت پر حملہ

ہندوستان میں ان دنوں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے سڑکوں پر احتجاج اور تحریکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس سمیت انڈیا بلاک میں شامل تمام پارٹیوں کے لیڈران الیکشن کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی اس تحریک کے خلاف حکمراں بی جے پی نے بھی گزشتہ دنوں سڑک پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس معاملہ میں ’مہاراشٹر نونرمان سینا‘ (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے برسراقتدار پارٹی پر انتخابات میں شکست کے خوف سے ایسے ہتھکنڈے اپنانے کا الزام لگایا ہے۔

راج ٹھاکرے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا کے ذریعہ اپوزیشن کے خلاف مارچ نکالنے پر بی جے پی پر سخت حملہ کیا۔ ایم این ایس سربراہ نے کہا کہ ’’بھارتیہ جنتا پارٹی ایک عجیب پارٹی ہے۔ نیچے سے اوپر تک اقتدار میں رہنے کے باوجود جمہوریت بچاؤ کے نام پر مورچے نکال رہی ہے۔ دنیا میں شاید یہ اپنی نوعیت کی واحد مثال ہوگی، جہاں حکمراں پارٹی اپوزیشن کے خلاف مورچہ نکالتی ہے۔‘‘ راج ٹھاکرے نے گوکل معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اچھا، اگر واقعی آپ جمہوریت کا اتنا ہی احترام کرنا چاہتے ہیں تو گوکل معاملے میں آپ کے بی جے پی پینل کے 12 اور ستیج پاٹل پینل کے 13 امیدوار انتخابات جیت کر آئے، تو اس کے فوراً بعد آپ نے حکومت کے (یعنی اپنی ہی پارٹی کے) 5 ڈائریکٹر کیوں مقرر کر دیے؟‘‘

راج ٹھاکرے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’’انہیں (نوتقرر ڈائریکٹرز کو) ووٹ دینے کا حق دے کر آپ آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ وہ سب بیلٹ پیپر کے ذریعہ اور جمہوری طریقے سے انتخاب لڑ کر جیتے تھے۔ اگر آپ کو واقعی جمہوریت کی پروا یا فکر ہوتی تو آپ اس طرح کا کام نہیں کرتے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’گوکل میں کامیابی نہیں ملی تو سارے اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا اور اب جمہوریت بچاؤ کے لیے مورچے نکالیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں :

ٹھاکرے نے بی جے پی کو ’سمجھ داری کے شدید قحط‘ سے دوچار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں اس وقت پانی کا شدید قحط ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں سمجھ داری کا شدید قحط ہے۔ یہ دونوں قحط ایک ساتھ کیسے پڑ سکتے ہیں، یہی حیرت کی بات ہے۔ اقتدار میں رہتے ہوئے یہ لوگ جمہوریت بچاؤ کے نام پر مورچے نکالیں گے اور خود ہی جمہوریت کا گلا گھونٹیں گے۔ راج ٹھاکرے مزید کہتے ہیں کہ ملک کی معیشت بدحال ہو گئی ہے، اب اس کے لیے بھی مورچے نکالے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو شکست کے خوف سے ایسے ہتھکنڈے اپنانا بند کرنا چاہیے۔ کسی بھی طریقے سے آپ نے جو اکثریت حاصل کی، اسے تمام اپوزیشن پارٹیوں نے 12 سال تک برداشت کیا ہے۔ اب جب ملک کی عوام اپوزیشن پارٹیوں کی طرف مائل ہونے لگی ہے تو بی جے پی کو بھی اسے برداشت کرنا سیکھنا چاہیے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں