الیکشن سے پہلے ایران پر نئےحملے کا منصوبہ اسرائیلی آرمی چیف نے ناکام بنادیا۔نیتن یاہو سے جھڑپ

آپریشن کو آرمی چیف سمیت سینئر جرنیلوں کی حمایت حاصل نہیں ہوئی

November 7, 2026 · امت خاص

ایران پر حملے کی مخالفت،نیتن یاہو کا اسرائیلی آرمی چیف کو برطرف کرنے پر غور

ایران پر حملے کی مخالفت،نیتن یاہو کا اسرائیلی آرمی چیف کو برطرف کرنے پر غور

 

اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور موساد نے اسرائیل کے حالیہ انتخابات کے موقع پر ایران کے خلاف ایک فوجی آپریشن کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قیادت کی شدید مخالفت اور امریکہ کی مداخلت کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔معاملے پر نیتن یاہوکی آرمی چیف سے جھڑپ کا بھی انکشاف ہواہے۔

چینل 12 نے دعویٰ کیا کہ یہ آپریشن امریکی تعاون کے بغیر کیا جانا تھا اور اسے سینئر جرنیلوں کی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ جرنیلوں کو خدشہ تھا کہ اس سے خطے میں بڑے پیمانے پر کشیدگی بڑھ جائے گی اور انتخابات کا انعقاد متاثر ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبہ آگے بڑھتا رہا جبکہ نیتن یاہو اور چیف آف اسٹاف ایال ضمیر کے درمیان اس غیر واضح فوجی کارروائی پر شدید اختلاف اور تصادم جاری رہا۔ ضمیر نے کارروائی کی مزاحمت کی اور مزید مشاورت کے ساتھ قانونی اجازت کے لیے نیتن یاہو سے دستخط شدہ دستاویزات کا مطالبہ کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابات سے صرف دو دن پہلے 25 اکتوبر کو یہ کشمکش اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اس دوران ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار کی مبینہ غلطی سے امریکہ کو منصوبے کا علم ہوگیا، جس پر واشنگٹن نے فوری طور پر اسے روکنے کے لیے اقدامات کیے۔ چینل نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ فوجی سنسرشپ کی حدود میں نشر کی جا رہی ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ، فوج کے دیگر حکام بھی مخالف تھے اور ان کا خیال تھا کہ سیاسی قیادت ایرانی معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک عبرانی اخبار کے مطابق اسرائیل ایرانی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی امریکہ کے فیصلے کے منتظر ہیں اور دونوں ممالک کے تہران کے ساتھ متوقع فوجی تصادم کے اہداف مختلف ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے پہلے کوئی حملہ ایجنڈے پر نہیں تھا اور نیتن یاہو نے آرمی چیف سے کسی اختلاف کی بھی تردید کی۔ تاہم اسرائیلی میڈیا ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔

یہ رپورٹ انتخابات سے چند دن پہلے نشر ہونے والی اسی نوعیت کی دیگر خبروں کے بعد سامنے آئی ہے۔ 25 اکتوبر کو چینل 12 نے نیتن یاہو اور ضمیر کے درمیان “بے مثال تصادم” کی اطلاع دی تھی۔ نیتن یاہو نے چینل 14 کے ساتھ انٹرویو میں اس رپورٹ کو “بکواس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضمیر کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے حال ہی میں آئی ڈی ایف اور موساد کو ایرانی حکومت گرانے کی ہدایت دی تھی۔

چینل 12 کے مطابق پلماہیم ایئربیس پر ہونے والی ایک بحث کے دوران ماحول انتہائی تلخ تھا۔ ایک سینئر سیکیورٹی ذریعے نے کہا کہ تاریخ ضمیر کے حالیہ کردار کو کبھی نہیں بھولے گی۔ 26 اکتوبر کو چینلز نے رپورٹ کیا کہ ضمیر واحد سیکیورٹی چیف تھے جنہوں نے نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی مطلوبہ کارروائی کی مخالفت کی تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں