کابینہ میں ردوبدل کے لیے نیشنل کانفرنس قیادت نے ایک سال کا وقت مانگا، ہر وزیر کے ساتھ چار ایم ایل ایز پر مشتمل مشاورتی گروپ بنانے کی تجویز

کے این ایس
سری نگر/نیشنل کانفرنس کی قیادت نے کابینہ میں ردوبدل کے معاملے پر غور کرنے کے لیے ایک سال کا وقت مانگا ہے، جبکہ ہر وزیر کے ساتھ چار ارکانِ اسمبلی پر مشتمل مشاورتی گروپ منسلک کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ اس دوران جمعہ کو پارٹی ایم ایل ایز کے ساتھ ایک کشیدہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مبینہ طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش بھی کی۔
اجلاس میں شریک نیشنل کانفرنس کے ایک سینئر رکنِ اسمبلی نے بتایا کہ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں ارکانِ اسمبلی کی شکایات اور وزراء و منتخب نمائندوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کے معاملات زیر بحث آئے۔
رکنِ اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی قیادت نے کابینہ میں ردوبدل کے مطالبے پر ایک سال کا وقت مانگا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ ہر محکمے کے وزیر کے ساتھ چار ایم ایل ایز پر مشتمل ایک مشاورتی گروپ منسلک کیا جائے، تاکہ ارکانِ اسمبلی کو محکمہ جاتی مشاورت میں شامل کیا جا سکے اور وہ اپنے اپنے حلقوں سے متعلق مسائل براہِ راست اٹھا سکیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں جموں خطے سے وزیر اعلیٰ کے لیے ایک اضافی مشیر مقرر کرنے کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔
رکنِ اسمبلی کے مطابق اجلاس کے دوران اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے اوپر بڑھتے ہوئے دباؤ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ عمر عبداللہ اجلاس کے دوران کھڑے ہوئے اور باہر جانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ وہ دباؤ میں ہیں اور استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ کسی دوسرے رکنِ اسمبلی کو وزیر اعلیٰ بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم اجلاس میں موجود ارکان نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کی قیادت کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی وزیر اعلیٰ کی تبدیلی چاہتے ہیں، بلکہ ان کے تحفظات بعض اہم مسائل سے متعلق ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس اجلاس سے چند روز قبل نیشنل کانفرنس کے متعدد ارکانِ اسمبلی نے حکومت کی کارکردگی اور حکومتی امور پر مشاورت کے بعد پارٹی قیادت کے سامنے آٹھ نکاتی یادداشت پیش کی تھی۔ارکانِ اسمبلی نے اپنے مطالبات میں انتخابی وعدوں پر عمل درآمد، ریاستی درجے اور خصوصی حیثیت کی بحالی، کابینہ کی تشکیلِ نو، وزراء اور ایم ایل ایز کے درمیان بہتر تال میل اور پارٹی کے تنظیمی معاملات کو شامل کیا تھا۔
پارٹی کے اندر ارکانِ اسمبلی کی مسلسل ملاقاتوں اور مشاورت کے بعد حکمران جماعت میں اختلافات کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ کابینہ سے متعلق مشق نے وزارتی نمائندگی اور ارکانِ اسمبلی کے کردار کے حوالے سے سوالات کو مزید نمایاں کیا ہے۔
رکنِ اسمبلی نے کہا کہ جمعہ کے اجلاس میں انہیں اپنے تحفظات براہِ راست ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے سامنے رکھنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق کابینہ میں ردوبدل کے مطالبے پر قیادت کی جانب سے وقت مانگنے کے علاوہ مشاورتی گروپوں کی تشکیل اور جموں سے ایک اضافی مشیر کی تقرری کی تجویز بھی اجلاس کے اہم نکات میں شامل رہی۔انہوں نے کہا کہ اب ان یقین دہانیوں پر عمل درآمد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آنے والے مہینوں میں پارٹی قیادت ان تجاویز کو کس حد تک عملی جامہ پہناتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں