چھوٹے صوبوں کے قیام سے حکومت عوام کے زیادہ قریب آسکے گی، سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی اور مقامی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی
پاکستان میں 12 صوبے بنانے کی تجویز،پنجاب 4 حصوں میں تقسیم کرنے اور ملک گیر ریفرنڈم کرانے پر غور
ذرائع کے مطابق اس تجویز کا مقصد طرزِ حکمرانی بہتر بنانا، انتظامی معاملات کو مؤثر بنانا اور ملک کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہے۔ ابتدائی غور و خوض میں 2027 کے پہلے چھ ماہ کے دوران آئینی ترمیم کی جانب پیش رفت کا تصور پیش کیا گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے ابتدائی اقدامات رواں منصوبے کے مطابق پہلی سہ ماہی میں کیے جانے کا امکان ہے۔
مجوزہ انتظامی تقسیم کے تحت پنجاب کو چار، خیبر پختونخوا کو تین، بلوچستان کو تین اور سندھ کو دو صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے۔ اس طرح پاکستان میں صوبوں کی مجموعی تعداد 12 ہو جائے گی۔
مجوزہ منصوبے کا ایک اہم حصہ آئینی ترمیم کا عمل شروع کرنے سے پہلے ملک گیر ریفرنڈم کرانا ہے، جس کے ذریعے عوام سے نئے صوبوں کے قیام کے بارے میں رائے حاصل کی جائے گی۔ اس کا مقصد اس معاملے پر عوامی حمایت حاصل کرنا اور فیصلے کو صرف سیاسی جماعتوں کے مذاکرات تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی رائے کو اہمیت دینا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تجویز کا مقصد کسی موجودہ صوبے کی سیاسی یا انتظامی حیثیت کمزور کرنا نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی آبادی، انتظامی مسائل اور مختلف علاقوں میں ترقی کے غیر مساوی مواقع جیسے چیلنجز سے نمٹنا ہے۔
تجویز کے حامیوں کے مطابق چھوٹے صوبوں کے قیام سے حکومت عوام کے زیادہ قریب آسکے گی، سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی اور مقامی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی۔ اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری وسائل کی تقسیم میں بھی بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم نئے صوبوں کی حدود کے تعین، وسائل کی تقسیم، مالی اختیارات، انتظامی ذمہ داریوں اور صوبائی نمائندگی جیسے اہم معاملات پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس نوعیت کی تبدیلی کے لیے وسیع سیاسی مشاورت، پارلیمانی حمایت اور آئینی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوں گے۔
واضح رہے کہ 12 صوبے بنانے اور ملک گیر ریفرنڈم کرانے کی تجویز فی الحال غور و خوض کے مرحلے میں ہے اور اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے یا باضابطہ اعلان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔