سال 2009ء میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے اس جوڑے کی شادی کو تقریباً ڈیڑھ دہائی کا عرصہ بیت چکا ہے اور ان کے دو بچے بھی ہیں
صنم جاوید کی خلع کے پیچھے اصل وجہ، عتیق کیسے رہا ہوئے
پاکستان تحریک انصاف کی معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور رہنما صنم جاوید کی جانب سے اپنے شوہر عتیق ریاض سے خلع کے لیے لاہور کی فیملی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست نے اس وقت عوامی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سال 2009ء میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے اس جوڑے کی شادی کو تقریباً ڈیڑھ دہائی کا عرصہ بیت چکا ہے اور ان کے دو بچے بھی ہیں، تاہم اب یہ رشتہ بظاہر اپنے خاتمے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ عدالت میں دائر کردہ قانونی دعوے کے مطابق اس علیحدگی کی بنیادی وجہ دونوں میاں بیوی کے درمیان شدید قسم کے ذاتی اور ذہنی اختلافات ہیں، جس کے باعث اب ان کا اکٹھے رہنا ممکن نہیں رہا۔ صنم جاوید کی قانونی ٹیم نے بھی اس امر کی وضاحت کی ہے کہ یہ ان کا خالصتاً نجی اور گھریلو معاملہ ہے، جسے سیاسی عینک سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
اس خلع کی درخواست کے ساتھ ہی سوشل میڈیا اور سیاسی راہداریوں میں یہ افواہیں اور قیاس آرائیاں بھی گردش کرنے لگیں کہ کیا عتیق ریاض کی ماضی میں ہونے والی رہائی اس طلاق کا سبب بن رہی ہے اور کیا انہوں نے کوئی سیاسی سمجھوتہ کیا ہے۔ عتیق ریاض کو پہلی بار مئی 2023ء کے واقعات کے بعد حراست میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں اپریل 2025ء میں انہیں صنم جاوید کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما کی مبینہ جعلی ویڈیو وائرل کرنے کے کیس میں ایف آئی اے نے دوبارہ گرفتار کیا۔ عتیق ریاض تفتیش اور قانونی چارہ جوئی کے بعد جیل سے رہا ہو گئے تھے، جبکہ صنم جاوید بدستور کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔ اگرچہ عوامی سطح پر ان کی رہائی کو کسی مبینہ ڈیل یا مفاہمت سے جوڑا جاتا رہا ہے، لیکن عتیق ریاض کی طرف سے کسی سیاسی سمجھوتے، پریس کانفرنس یا پی ٹی آئی سے علیحدگی کا کوئی باضابطہ ثبوت یا عدالتی ریکارڈ موجود نہیں ہے، اور فیملی کورٹ نے انہیں اس خلع کے دعوے پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیے نوٹس جاری کر رکھا ہے۔
اس پورے معاملے کو سمجھنے کے لیے صنم جاوید کے خاندانی اور سیاسی پس منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ صنم جاوید کا تعلق لاہور کے ایک پڑھے لکھے اور متمول گھرانے سے ہے، جہاں ان کے والد جاوید اقبال خان ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاوید اقبال خان خود بائیں بازو کی اعتدال پسند سیاست کے حامی ہیں اور عمران خان کے بیانیے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ماضی میں صنم جاوید ان سے ناراض بھی رہیں، تاہم بیٹی کی گرفتاریوں کے بعد انہوں نے ایک باپ کا فرض نبھاتے ہوئے تمام مقدمات کی بھرپور پیروی کی ہے۔ دوسری جانب صنم جاوید کی بہن فلک جاوید خان بھی پی ٹی آئی کی ایک سرگرم کارکن رہی ہیں جنہیں زمان پارک کے باہر ہونے والے ہنگاموں کے کیس میں طویل عرصہ جیل کاٹنی پڑی اور بعد میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ستمبر 2026ء میں ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ یوں ایک ایسے وقت میں جب صنم جاوید جیل کی سلاخوں کے پیچھے قانونی جنگ لڑ رہی ہیں، ان کی نجی زندگی میں آنے والا یہ موڑ ان کے خاندانی اور سیاسی سفر کا ایک انتہائی حساس باب بن گیا ہے۔