پولیس افسران نے بتایا کہ دہلی کے چاؤڑی بازار میں کثیر منزلہ عمارت منہدم ہونے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 7 ہوگئی ہے، کیونکہ امدادی ٹیموں نے ملبے سے ایک اور لاش نکالی ہے۔ متوفی کی شناخت بہار کے دربھنگہ ضلع کے جکولی گاؤں کے رہنے والے لچھمن مکھیا (66) کے طور پر ہوئی ہے۔ مزید قانونی کارروائی کے لیے لاش کو ایل این جے پی اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ مرنے والوں میں سے 5 سنجیت کمار، پنکج شرما، شانتو اور دنیش شاہ، بہار کے کھگڑیا ضلع کے رہنے والے تھے، جبکہ کشور شاہ سہرسہ ضلع کے رہائشی تھے اور وپن رام دہلی کے فاضل پور علاقے کا رہنے والا تھا۔
اس دوران پولیس نے ہفتہ (8 نومبر) کو بتایا کہ عمارت کے مالک، دہلی کے رہنے والے سمیع اللہ عرف ایوب کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فرید آباد کے سروہی گاؤں سے 3 ٹھیکیداروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کی شناخت سراج، تاج الدین اور فرقان کے طور پر ہوئی ہے، جو تینوں دہلی کے رہنے والے ہیں۔ حوض قاضی پولیس اسٹیشن میں 5 نومبر کو چاروں ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 105/290/125(اے)/3(5) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
قابل ذکر ہے کہ جمعرات (5 نومبر) کو زیر تعمیر 3 منزلہ عمارت منہدم ہوگئی تھی۔ افسران کے مطابق چاؤڑی بازار میٹرو اسٹیشن کے قریب گلی ستارہ سے صبح 9 بج کر 50 منٹ پر عمارت گرنے کی اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد دہلی پولیس، نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، دہلی فائر سروس اور دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کی۔ جمعرات کو 2 لاشیں نکالی گئی تھیں، جب کہ ایک زخمی شخص کو ملبے سے نکال کر علاج کے لیے اسپتال بھیجا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق دہلی کے چاؤڑی بازار علاقے میں منہدم ہونے والی عمارت میں تعمیراتی کام غیر قانونی تھا اور عمارت غیر محفوظ تھی۔
یہ بھی پڑھیں :
اس دوران میونسپل کارپوریشن نے اپنے جونیئر انجینئر (جے ای) اور اسسٹنٹ انجینئر (اے ای) کو معطل کر دیا ہے اور اس حادثے کے بعد ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملبے میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی جانچ جاری ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔