کراچی(اسٹاف رپورٹر) سابق پولیس سربراہان کی طرح موجودہ آئی جی پولیس ڈاکٹر کلیم امام سے بھی سندھ حکومت کی ٹھن گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر کلیم امام نے کابینہ ارکان اور حکومتی شخصیات کو لفٹ کرانا چھوڑ دی ہے۔ آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر کلیم امام کے روئیے پر مشیر قانون بیرسٹر مرتضی وہاب نالاں ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں انہیں سرکاری طور پر خط بھی لکھا ہے۔اپنے خط میں مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سندھ پولیس کیلئے اسلحہ خریداری اور سیپرا قوانین پر آئی جی پولیس کا نکتہ نظر معلوم کرنے کیلئے فون کیا لیکن آپ میری فون کال اٹینڈ کررہے اور نہ جواب دے رہے ہیں۔ کسی سرکاری افسر کا غیرذمہ دارانہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے، آئینی ذمہ داریوں پر فائز فرد کیساتھ یہ رویہ ہے تو عوام کیساتھ آئی جی کا کیا سلوک ہوگا۔مرتضیٰ وہاب نے اپنے خط میں سوال اٹھائے ہیں کہ آئی جی پولیس کے نوتعمیر شدہ دفتر پر کتنے اخراجات ہوئے، بتایا جائے کہ اس کی تعمیر کے لیے مروجہ قواعد کو پورا کیاگیا؟، آئی جی پولیس سوالات کے جواب دیں۔واضح رہے کہ اس قبل بھی صوبے کے کئی پولیس سربراہان اور پیپلز پارٹی حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آچکے ہیں۔
