
مالی سال 2018-19میں ادارے کو لینڈ یوٹیلائزیشن ٹیکس کی مدد میں2کروڑ 50لاکھ روپے کا خسارہ بے نقاب ٗ آمدنی چند لاکھ ہوکر رہ گئی
بلدیہ شرقی کے حکام کی غفلت کا فائدہ اٹھاکر افسران سرکاری کھاتوں میں جمع ہونیوالا ٹیکس اپنی جیبوں میں بھرنے لگے ٗ ذرائع کا دعویٰ
کراچی (وقا ئع نگار خصوصی) بلدیہ شرقی محکمہ لوکل ٹیکس کے افسران کاسرکاری ریونیو میں کروڑوں روپے مبینہ خردبرد کا انکشاف ہوا ہے،مالی سال2018-19 ء میں ادارے کو لینڈ یوٹیلائزیشن ٹیکس کی مد میں 2کروڑ50لاکھ روپے خسارے کاا نکشاف ،بلدیہ شرقی کے حکام کی غفلت اور غیر ضروری مصروفیات کا فائدہ اْٹھا کر محکمے کے افسران لینڈ یوٹیلائزیشن کی مد میں حاصل ہونے والا ٹیکس سرکاری کھاتوں میں جمع کرانے کے بجائے اپنی جیبوں میں بھرنے میں مصروف رہے ،مالی سال 2017-18 میں بلدیہ شرقی کو لینڈ یوٹیلایزیشن(سروسزجنریٹر،عمارتی سامان،نائٹ ہوٹلنگ) کی مد میں 3 کروڑ 40 لاکھ روپے آمدنی حاصل ہوئی تاہم حیرت انگیز طور پر مالی سال2018-19 ء میں صرف90 لاکھ روپے سرکاری کھاتے میں جمع کرائے گئے ہیں جبکہ مالی سال2019-20 ء کے ابتدائی چار ماہ میں مذکورہ ہیڈ میں چند لاکھ روپے جمع کرائے گئے ہیں،بلدیہ شرقی کے قریبی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بلدیہ شرقی کے حکام کی غفلت کا فائدہ اْٹھا کر ادارے کے لئے ریونیو جمع کرنے والا محکمہ لوکل ٹیکس بدعنوانیوں کا گڑھ بن چکا ہے ذرائع کے مطابق مذکورہ محکمے کے افسران حکام کی غیر ضروری مصروفیات کا فائدہ اٹھا کر ادارے کا ٹیکس وصول کرنے کے بجائے بلاخوف ذاتی ریکوری کرنے میں مصروف ہیں جس کے باعث ادارے کی کروڑوں روپے کی آمدنی چند لاکھ روپے ہوکر رہ گئی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال-18 2017 ء میں بلدیہ شرقی نے لینڈ یوٹیلائزیشن کی مد میں ٹیکس ہدف 6کروڑ روپے رکھا تھا جس میں سے محکمے نے 3کروڑ40لاکھ روپے ٹیکس وصول کیا تاہم مالی سال2018-19 ء کے بجٹ میں مذکورہ ذرائع سے ٹیکس ٹارگٹ میں اضافہ کرنے کے بجائے حکام نے ملی بھگت کرکے منصوبہ بندی کے تحت مذکورہ ٹیکس ہدف میں 2کروڑروپے کی کمی کرکے ٹارگٹ 4 کروڑ روپے کردیا تاہم حیرت انگیز طور پر مالی سال 2018-19ء میں مذکورہ ہیڈمیں ادارے کی ریکوری میں اضافہ ہونے کے بجائے 2کروڑ50لاکھ روپے خسارے کے بعد صرف 90لاکھ روپے آمدنی بلدیہ شرقی کے سرکاری کھاتے میں جمع کرائے گئے جبکہ رواں مالی سال کے چار ماہ میں صرف چند لاکھ روپے ٹیکس جمع کرایا گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ لوکل ٹیکس کے افسران ضلع بھر سے سرکاری ٹیکس وصول کرنے کے بجائے ذاتی ریکوری اورمبینہ طور پر جعلی ٹیکس چالان کے ذریعے ٹیکس وصول کر رہے ہیں جس کے باعث بلدیہ شرقی کو گزشتہ مالی سال 2کروڑ50لاکھ روپے کا خسارہ اْٹھا نا پرا جبکہ رواں مالی سال صورت حال مزید ابتر ہوگئی ہے ۔