ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پی ٹی ایم رہنماعارف وزیر کے قتل کے متعلق انکشافات

قمر یوسف زئی

افغان انٹیلی جنس نے پی ٹی ایم رہنماعارف وزیر کو قتل کروایا
وزیر قبائل کسی صورت حکومت پاکستان اور پاک فوج کے خلاف نہیں جائیں گے۔جرگے کامشترکہ فیصلہ

افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس پاکستان میں امن امان کی صورتحال خراب کرنے کیلئے انڈیا کی ایجنسی را کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہے ، جو کسی سے پوشیدہ نہیں۔کام کسی سے پوشیدہ نہیں۔ چند دن قبل صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما عارف وزیر کا قتل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
این ڈی ایس وزیرستان کے علاقے سے پاکستان کا امن برباد کرنے کے لیے دہشتگردی میں ملوث رہی ہے۔ وہ لوگوں کو رقم کے بدلے سہولت کاری اور پی ٹی ایم کو سامنے لا کر اپنے مقاصد پوری کرتی آ رہی ہے۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے عارف وزیر کے قتل کے پیچھے چھپے حقائق کیا ہیں۔
قتل سے کچھ عرصہ پہلے عارف وزیر افغانستان گئے اور افغانستان کی این ڈی ایس نے عارف وزیر کو ٹی ٹی پی کی سہولت کاری اور علی وزیر کو قتل کرنے کا کام سونپاجس کے لیے بھاری رقم کی بھی پیشکش کی کی گئی تھی ۔ساتھ ہی عارف وزیر کو یہ بھی باورکرایاگیا کہ اصل لیڈر تو آپ ہیں اور علی وزیر آپ کے مقابلے میں کچھ نہیں ۔این ڈی ایس اہلکار شاھہن و زیر اورگن ،عارف وزیر کے ساتھ مذاکرات میں مصروف رہے۔
عارف وزیر کو سیاست میں آنے کا شوق تھا۔ انہیں بتایا گیا کہ اگر علی وزیر سائیڈ لائن ہو جائے یا مارا جائے تو وانا میں عارف وزیر کو سیاست میں آنے کا موقع میسر آ سکتا ہے۔عارف وزیر اور علی وزیر کے مابین کاروباری تنازعہ بھی چلا آرہا تھا ۔علی وزیر نے انکے مشترکہ پیٹرول پمپ ظالم پیٹرول پمپ واقع وانا سے پیسے بھی لئے تھے اور باوثوق ذرائع کے مطابق یہ رقم گیارہ لاکھ پاکستانی روپے تھی ، ان پیسوں پر بھی علی وزیر اور عارف وزیر کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا۔
علی وزیر کو پولیس اور سرکاری اداروں کی طرف سے آگاہ کیا گیا کہ آپ کو ٹی ٹی پی کی طرف سے خطرات لاحق ہیں لیکن علی وزیر اور پی ٹی ایم نے ہمیشہ کی طرح پاک فوج پر الزام لگایا اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی شروع کردیا۔
علی وزیر کا افغانستان کے نئے منتخب صدر اشرف غنی کی حلف برداری کی تقریب میں جانا ہوا جہاں این ڈی ایس نے انہیں غیر معمولی پروٹوکول دیا۔ این ڈی ایس نے عارف وزیر کو دیا گیا کام علی وزیر کو سونپ دیا ۔ علی وزیر کو ٹی ٹی پی کی سہولت کاری اور عارف وزیر کے قتل کا ذمہ سونپ دیا گیا اور پھر وہی ہوا جو این ڈی ایس چاہتی تھی۔ عارف وزیر وانا میں قتل ہو گیا۔ علی وزیر کی عارف وزیر کے مرنے سے پہلے ہی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی لیکن وہ اس وقت زندہ تھا ۔پھر علی وزیر کی ڈیرہ اسماعیل خان ڈی ایچ کیو سے ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اس کی خوشی اور چہرے کی مسکراہٹ عوام نے دیکھی۔ لیکن علی وزیر چونکہ سیاست میں ہیں اور لاش پر سیاست کرنے کا خیال لیے ڈیرہ اسماعیل خان سے پانچ چھ گھنٹے کی مسافت پر عارف وزیر کو اسلام آباد منتقل کروا دیا جبکہ ڈیرہ میں اس کی ریکوری بھی ہو سکتی تھی اور علاج بھی اچھا چل رہا تھا ،لیکن علی وزیر کے مقاصد پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے تھے کیونکہ علی وزیر کو اسلام آباد میں میڈیا کی کوریج اورپی ٹی ایم کو سڑکوں پر لانا تھا ۔
ہسپتال انتظامیہ کو لکھ کر دے دیا گیاکہ ہم عارف وزیر کو اپنی مرضی سے اسلام آباد لے جانا چاہتے ہیں۔ اور بلا آخر علی وزیر اور این ڈی ایس کا مقصد پورا ہوا۔ عارف وزیر اسلام آباد پہنچ کر فوت ہوگئے۔ ان کی آنکھیں بند کرنے کی دیر تھی کہ پی ٹی ایم ہمیشہ کی طرح پاک فوج کو گالم گلوچ اور پاکستان مردہ باد کے نعروں تک پہنچ گئی۔
مورخہ 28 مئی 2020 کو 0900 بجے سے 0930 بجے تک احمد زئی وزیر کا امن و امان اور عارف وزیر کے قتل کے سلسلے میں جرگہ ھوا۔ جرگہ بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگیا۔
پہلے جرگے میں درج ذیل مشران شامل تھے۔1.ملک اجمل زلی خیل2.ملک بسم اللہ یارگل خیل3۔ملک شیر علی خوجل خیل4.ملک شیرین جان زلی خیل5. ملک راز محمد زلی خیل6.ملک عزیز اللہ زلی خیل7.ملک کشمیر زلی خیل8.ملک زنگی خان یارگل خیل9.ملک جمیل توجی خیل10.ملک غلام صدیق سرکی خیل11.مولوی زینت اللہ
کچھ اھم مشران کی غیر حاضری کی وجہ سے جرگہ 30 مئی 2020 تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ 30 مئی کو اشرف خیل قبرستان تحصیل وانا میںپھر جرگہ منعقد ہوا جس میں مندرجہ ذیل مشران نے شرکت کی۔
زلی خیل وزیر١،ملک شیران جان دری خیل،٢۔ملک رحمت اللہ یار گل ،٣۔ملک میر دل جیے خیل۔٤ملک سعید اللہ دری خیل٥۔ملک اجمل کاکا خیل٦۔ملک سمتول کاکا خیل٧۔ ملک نور علی کرماز خیل٨۔ملک راز محمد شیخ بازیدمیں. ملک سردار کاری خیل۔٩۔ ملک غزنی کرماز خیل،٠١،ملک جہان باز یار گل خیلدوسرے احمد زئی وزیر میں سے ١۔ملک جمیل توجی خیل٢۔ملک شیر یار خوجال خیل۔٣۔ملک شوکت گنگی خیل،٤ملک عباس خان سرکی خیل،٥۔ملک میر محمد خجیل خیل،٦،ملک سدرا نور گنگی خیل٧۔ ملک پیر الرحمن مغل ،٨۔ملک ثنا اللہ گنگی خیل٩.ملک عبدالخالق کھوجل خیل،٠١۔ملک کشمیر سرکی خیل،١١۔ملک دوست محمد توجی خیل جبکہ علمائے کرام / مذہبی شخصیات میں١۔مولانا مرزا جان،۔٢۔مولوی میر اجم خان،٣۔مولوی سلطان،٤۔مولانہ رفیع الدینپی ٹی ایم سے١۔مولوی فضلالر رحمن فضلی،٢۔اقبال لالہ توجی خیل،٣،جمشید وزیر،٤۔شاہ نور کرے خیل،٥۔شہزادہ اشرف خیل،٦۔مولوی زینت اللہ یار گل خیل نے شرکت کی
جرگے نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ وزیر قبائل کسی صورت حکومت پاکستان اور پاک فوج کے خلاف نہیں جائیں گے۔جرگہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگر پاک فوج کے آرمی چیف نے جہاد کا اعلان کیا تو وزیر قبائل پاکستان اور اسلام کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور جہاد میں بھرپور حصہ لیں گے ۔وزیر قبائل کے جرگہ نے پی ٹی ایم کے الزامات کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ در حقیقت وزیر قبائل کو معلوم ہے کہ عارف وزیر کے قتل کی حقیقت کیا ہے۔
ابھی تک قبائل نے جب بھی عارف وزیر کے قتل کے حوالے سے علی وزیر سے پوچھا ہے تو علی وزیر نے جرگہ میں شرکت نہیں کی ۔ پی ٹی ایم کے ممبران تعداد میں زیادہ نہیں مگر سوشل میڈیا پہ انکا پروپیگنڈہ افغانستان اور ہندوستان میں بہت سرعت سے پھیلتا ہے۔
اب عارف وزیر قتل کیس کس کے گلے میں فٹ کیا جائے گا ؟ کیا علی وزیر یا اسکے قریبی ساتھیوں پر مقدمہ چلے گا یا پھر ایک پروپیگنڈہ شروع ہوگا؟

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں