ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کورونا بحران کے باوجود کھرب پتیوں کی دولت میں اضافہ

اسلام آباد: ملک کے موجودہ سیاسی و معاشی حالات کافی عرصہ سے ایک انتشار کا شکار ہیں اورعوام کوتبدیلی کے بیانیہ کے ساتھ ملک میں ٹو پارٹی سیاسی سسٹم کو چیلنج کرکے اقتدار میں آنے والی تحریک انصاف کی حکومت سے بہت امیدیں واسطہ تھیں مگر پچھلے دوسال سے زائد عرصے سے حالات جس تیزی کے ساتھ بگڑے ہیں اس سے عوام پریشانی میں مبتلا ہیں۔

ماضی میں بجٹ میں عوامی دلچسپی دیدنی ہوا کرتی تھی لیکن اب کسی کو کوئی دلچسپی نہیں۔ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانسنگ پالیسی فریم ورک میں طے شدہ اصلاحاتی سفارشات کی روشنی میں فائنل کرکے بارہ جون کو ہونیوالے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں منظوری کے بعد اسی روز پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جس میں غیر ترقیاتی اخراجات ودیگر غیر ضروری اخراجات میں کمی کے ذریعے کچھ ایڈجسٹمنٹ کرکے آئی ایم ایفگ کی شرائط پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔  حکومت بند گلی میں داخل ہوچکی ہے اور اسکے پاس آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

چینی پر سبسڈی کے معاملے میں مرکزی کردار سمجھے جانے والے جہانگیر ترین کے لندن جاتے ہی ذمہ داروں کے خلاف مقدمے درج کرکے کاروائی کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ اس پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید بھی کی جا رہی ہے اور جہانگیر ترین کو بیرون ممالک بھجوانے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اور اس معاملے کا رخ بھی اپوزیشن کی جانب موڑا جارہا ہے تاکہ اسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے۔ کیونکہ حکومت کی اہم اتحادی جماعت ق لیگ کے بارے میں جوڑ توڑ اور ن لیگ سے قربت کی باتیں ہو رہی تھیں۔  پرویز الہی اور مونس الہی کی وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے حالیہ ملاقات کے بعد پرویز الہی نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے کا بیان دیا ہے۔

دوسری طرف کورونا کے باعث نجی اداروں کے لوگوں کو  بے روزگار ہونے سے بچانے کیلئے  اسکیمیں متعارف کروائی جا رہی ہیں جبکہ خود حکومت کا اپنا یہ حال ہے کہ اس نازک موقع پر پاکستان اسٹیل ملز کے ہزاروں ملازمین کو ایک ماہ کے نوٹس پر فارغ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری ہونے والی رپورٹ اور گیلپ سروے رپورٹ نے تو مزید خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

گیلپ پاکستان کے سروے میں انکشاف کیا گیاہے کہ کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں ایک کروڑ 73 لاکھ سے زائد افراد ملازمتوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ بیروزگاری کے خدشے میں آنے والی یہ تعداد ملک بھر میں ملازمت پیشہ افراد کا 28 فیصد بنتی ہے رپورٹ کے مطابق سندھ میں ملازمت سے محروم ہونے والوں کی شرح سب سے زیادہ 37 فیصد سے زائد ہوسکتی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں 29 فیصد، بلوچستان میں 27 فیصد اور پنجاب میں یہ شرح 24 فیصد ہوسکتی ہے۔

ادھر اسٹیٹ بینک نے تو اپنی رپورٹ میں واضع لکھا ہے کہ کورونا کے سبب تجارت مثاثر ہوئی، کئی کمپنیاں دیوالیہ ہوسکتی ہیںکورونا وائرس کے سبب تجارت مثاثر ہوئی کورونا کے باعث مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، عوام کی قوت خرید گھٹ گئی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی کم ہوگئی،معاشی سست روی سے محصولات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔  اگر یہی صورتحال جاری رہی تو کئی کمپنیاں دیوالیہ ہوسکتی ہیں جبکہ روپے کی قدر میں کمی کا بھی خدشہ ہے۔

معاشی ترقی کی شرح اور بجٹ متاثر ہوگاجبکہ عالمی معیشت مثاثر ہونے سے ترسیلات زر اور سرمایہ کاری میں بھی کمی آئی ہے البتہ تیل کی کم قیمتوں سے درآمدی ممالک کو فائدہ ہوا رپورٹ میں لاک ڈاون کے حوالے سے بھی کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن سے کھانے پینے اور معاشرتی تحفظ کی فراہمی چیلنج ہوگااور انہیں تمام چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی رابطہ کمیٹی نے پیر کو اپنے اجلاس میں لاک ڈاون میں سختی کرنے کی بجائے موجودہ صورتحال ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی سیاحت بھی کھولنے کا اشارہ دیا ہے۔

اگرچہ ملک میں کورونا کیسز کی تعداد تباہ کن و خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور ہر گذرتے دن کے ساتھ کورونا کے مریضوں کی تعداد اور مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے مگر حکومت نے عوام کو بتادیا ہے کہ اب کورونا کے ساتھ ہی جینا ہوگا اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ اس سے مزید اموات ہونگی اب عوام کو خود ہی احتیاط کرنا ہوگی اور ایو او پیز پر عمل کرنا ہوگا لگ یہی رہا ہے کہ حکومت نے ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں۔

بجٹ کے بعد نئی گیم شروع ہونے کو ہے اور اگر سیاستدانوں نے دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو پھر جمہوری بساط بی لپٹ سکتی ہے جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حال ہی میں پبلک کی جانیوالی شوگر کمیشن کی رپورٹ ایک ایسی دلدل ہے جس میں بہت ساروں نے بالآخر دھنس جانا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت درست سمت کا تعین کر کے جلد از جلد  عوام الناس کو ریلیف دے لیکن اس کو ممکن بنانے کیلئے ٹیم ورک کا ہونا ضروری ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان شروع دن سے بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ حکومتی معاملات کو شفاف و موثر انداز میں چلایا جائے لیکن ان کے ویژن پر عملدرآمد کیلئے فی الحال حکومتی ٹیم کے بیشتر ممبران موثر طریقے سے کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دے رہے، جبکہ عوام کے مسائل کے حل کیلے مزید سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ خاص کر غیرمنتخب ممبران کابینہ کی غیرسنجیدگی و عوامی مسائل کے حل میں عدم دلچسپی اور محض میڈیا پر شہرت کے حصول کی کوششیں تحریکِ انصاف کے منشور پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

دنیا کی بہت بڑی ریٹیل چین اپنے اسٹورز کے مالکان کو کرایہ معاف کرنے کی درخواست کر رہی ہیں اور ساتھ خبردار بھی کر رہی ہیں کہ اگر کرائے معاف نہ کئے گئے تو وہ سٹورز خالی کر دیں گے جبکہ امریکی معروف چین نے تو دیوالیہ ہونے کی درخواست بھی فائل کردی ہے اسی طرح لندن و امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میںقائم بڑے ڈپارٹمنٹل سٹورز جہاں دنیا کے مہنگے ترین نامور برانڈز کی مصنوعات پر خریداروں کا رش رہتا تھا آج تمام برانڈز کے شو کیسز لوٹ مار کے خوف سے سے ہٹا دیے گئے ہیں جبکہ آئی ایم ایف،عالمی بینک سمیت تمام عالمی مالیاتی اداروں نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے منفی اثرات طویل مدت تک رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔

دنیا کی مجموعی جی ڈی پی 90کھرب ڈالر ہے جس میں کورونا وائرس کی وجہ سے فروری اور مارچ 2020میں 3.2 کھرب ڈالر کی کمی ہو چکی ہے۔کورونا وائرس کے باعث دنیا کی اسٹاک مارکیٹوں کو اب تک 6.4کھرب ڈالر نقصان ہو چکا ہے لیکن اس خوفناک صورتحال میں بھی کھرب پتی اداروں کی دولت میں 434 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے اور وہ بھی کورونا کی وبا کے تین ماہ کے دوران۔ امریکہ کے 600 کھرب پتی افراد کی آمدنی اور دولت میں 15فیصد اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ میں کورونا کے سب سے زیادہ 18لاکھ مریض ہیں اور سب سے زیادہ کورونا سے ایک لاکھ سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں لیکن امریکیوں دولت میں اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ مائیکرو سوفٹ کے بانی بل گیٹس کی دولت میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ اور یورپ میں بل گیٹس کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے ہیں اور اسے تاریخ انسانی کا سب سے قابلِ نفرت انسان قرار دیا جا رہا ہے حالانکہ اس نے پولیو سمیت دنیا میں کئی بیماریوں کے خاتمے کیلئے بہت زیادہ فنڈز مختص کئے۔

’’ٹائم میگزین‘‘ نے اپنی حالیہ اشاعت میں یہ عندیہ دیا ہے کہ دنیا کی 15فیصد آبادی کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی پر بھی باتیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف خود امریکہ شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہے اورسیاہ فام پر تشدد کے واقعہ کے بعد سے امریکہ میں نسلی فسادات پھوٹ پرے ہیں اورامریکہ کی 25 ریاستیں بد ترین ہنگاموں کی زد میں ہیں 17 ریاستوں کے گورنر نیشنل گارڈ اور فوج طلب کر چکے ہیں۔ امریکی ریاستوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے والے ہنگامے امریکہ کے عالمی طاقت کے طور پر زوال کی ابتدا بھی بن سکتے ہیں۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں