تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ نطنز کے علاقے میں زیر زمین جوہری تنصیب کے اوپر دھماکے کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا نے ایک تبصرہ شائع کیا ہے ،جس میں دھماکے کو واشنگٹن اور تل ابیب کی سازش قرار دیا گیا ہے۔ تبصرے میں کہا گیا کہ صہیونی نظام اور امریکا کی جانب سے ایران میں سرخ لکیروں کو عبور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب تہران اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تنصیب کو ماضی میں بھی تخریب کاری کا نشانہ بنایا جاچکا ہے ۔ اس کے کمپیوٹر نظام پر خطرناک وائرس سے حملے کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ جمعرات کے روز ایران کے جوہری توانائی کے ایک پلانٹ میں خوفناک دھماکے کے بعد ایک حصے میں آگ بھڑک اْٹھی تھی،جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا ۔ دھماکا فیکٹری کے اس حصے میں ہوا جہاں نئے سینٹری فیوجز بنائے جاتے تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ دھماکے کی نوعیت اور وجہ کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہے،ادھر امریکی تجزیہ کاروںنے الزام عائد کیا ہے کہ دھما کا سینٹری فیوجز کی تیاری کے مقام پر ہوا اور لازمی طور پر ایران کو اس کا بڑا نقصان اٹھا نا پڑا ہے، تاہم تہران اپنے نقصان پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے معمولی آتش زدگی ظاہر کررہا ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ’پہلے ثبوت دکھائیے‘، عمران خان نے ممبئی پولیس کی رپورٹ پر اٹھائے سوال
- بابا صدیقی قتل معاملہ: ’ممبئی پولیس کارروائی نہیں، صرف نمائش کر رہی‘، بابا صدیقی کی اہلیہ شہزین کا سنگین الزام
- ’6 ریاستوں میں 10 کروڑ ووٹرس، ایس آئی آر میں صرف 1600 غیر ملکی ملے، تو لاکھوں نام کیوں حذف کیے گئے؟‘ کانگریس کا سوال
- پین کارڈ معاملہ: اعظم خان اور عبداللہ اعظم کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت، سزا معطل
- چندہ ’شری رام‘ کے نام پر آیا تھا، حساب بھی دینا ہوگا اور جوابدہی بھی طے کرنی ہوگی، خاموشی نہیں جواب چاہیے: جے رام رمیش