ہانگ کانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) ہانگ کانگ میں چینی سیکورٹی قانون کے نفاذ کے بعد آزادی اظہار پر پابندیوں سے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متنازع قانون کی زبان مبہم اور غیر واضح ہے جو مقامی باشندوں سمیت غیر ملکیوں پر بھی نافذ ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ایشیائی پروگرام کے معاون سٹیون بٹلر کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت چینی حکومت جو چاہے کر سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کی تشریح واضح ہو جائے گی، تاہم اس سے قبل ہی غیر یقینی صورت حال نے آزادی اظہار پر شدید اثرات دال دیے ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ’پہلے ثبوت دکھائیے‘، عمران خان نے ممبئی پولیس کی رپورٹ پر اٹھائے سوال
- بابا صدیقی قتل معاملہ: ’ممبئی پولیس کارروائی نہیں، صرف نمائش کر رہی‘، بابا صدیقی کی اہلیہ شہزین کا سنگین الزام
- ’6 ریاستوں میں 10 کروڑ ووٹرس، ایس آئی آر میں صرف 1600 غیر ملکی ملے، تو لاکھوں نام کیوں حذف کیے گئے؟‘ کانگریس کا سوال
- پین کارڈ معاملہ: اعظم خان اور عبداللہ اعظم کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت، سزا معطل
- چندہ ’شری رام‘ کے نام پر آیا تھا، حساب بھی دینا ہوگا اور جوابدہی بھی طے کرنی ہوگی، خاموشی نہیں جواب چاہیے: جے رام رمیش