ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سیلیبریٹی پریمئیر لیگ: خلیل الرحمن قمر کی بدتمیزی اور گالم گلوچ، لیگ سے نکال دیا گیا

معروف ڈرامہ نگار اور اپنے بدتمیزانہ رویے کی وجہ سے خبروں میں سرگرم رہنے والے خلیل الرحمن قمر نے کھیل کے میدان میں بھی اپنی فطرت نہ چھوڑی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں جاری سیلیبرٹی پریمیئر لیگ میں خلیل الرحمن قمر نے ساتھی فنکاروں کے ساتھ نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ گالم گلوچ بھی کرتے رہے۔

اسلام آباد میں جاری سیلیبریٹی پریمئیر لیگ اتوار کو اختتام پذیر ہوگئی تاہم ہفتے کے روز انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا جب پشاور کی ٹیم کے کپتان خلیل الرحمن قمر نے میدان میں گالم گلوچ شروع کر دی۔

معتبر ذرائع کے مطابق پشاور کی ٹیم کے کپتان خلیل الرحمن قمر نے اس وقت بدتمیزانہ لہجہ اپنایا جب مخالف ٹیم راولپنڈی سٹارز کے ایک کھلاڑی کا تنازع سامنے آیا جس کا نام پہلے ٹیم میں شامل نہیں تھا لیکن بعد میں اس کا نام شامل کر لیا گیا۔ نئے کھلاڑی کی شمولیت پر خلیل الرحمن قمر آپے سے باہر ہو گئے اور مخالف ٹیم کے کپتان اور کھلاڑی کو گالیاں دینا شروع کر دی۔ معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا تاہم لیگ انتظامیہ نے بیچ بچاؤ کیا۔

کھیل کے قوانین کے مطابق دوران کھیل خلیل الرحمن قمر میدان میں داخل نہیں ہو سکتے تھے اگر انہیں کوئی مسئلہ بھی تھا تو وہ میچ ریفری یا انتظامیہ سے الگ بات کر سکتے تھے لیکن انتظامیہ اور شائقین اس وقت ششد رہ گئے جب خلیل الرحمن گالیاں نکالتے گراؤنڈ میں داخل ہوئے اور لائیو کیمروں، خواتین اور بچوں کے سامنے گالم گلوچ شروع کر دی۔

خلیل الرحمن قمر کے اس رویے اور ساتھی فنکاروں کے مطالبے کی وجہ سے سیلیبرٹی پریمئیر لیگ کی انتظامیہ نے انہیں لیگ سے نکال دیا اور ان کی جگہ معروف بزنس مین اور سیاستدان زلفی بخاری کو پشاور کی ٹیم میں شامل کیا گیا۔

معروف صحافی اور اینکر پرسن شہزاد اقبال نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ وہ ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر کی اس بدتمیزی کے گواہ ہیں اور انہوں نے یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہوں نے کھلاڑیوں، فیملیز اور ساتھی فنکاروں کی موجودگی میں ماں بہن کی گالیاں نکالیں۔ ان میں کوئی شرم نہیں تھی اسی لیے بعد میں انہیں میدان سے نکال دیا گیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں