ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بڑے ایٹمی ذخائررکھنے والے ممالک تخفیف اسلحہ کے عملی اقدامات کریں‘ چین

امریکا اور روس کا بیجنگ کوایٹمی تخفیفِ اسلحہ مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ ’غیر منطقی اور غیر حقیقی ہے‘ترجمان چینی دفتر خارجہ

بیجنگ (جسارت ویب) چین نے کہا ہے کہ امریکا اور روس کی جانب سے بیجنگ کو ایٹمی تخفیفِ اسلحہ مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ غیر منطقی اور غیر حقیقی ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چین اور امریکا کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیتوں میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا، دونوں ممالک کا اسٹریٹجک ماحول اور ایٹمی پالیسی بھی بالکل مختلف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ چین “ایٹمی ہتھیاروں کے پہلے استعمال نہ کرنے” کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے اور صرف دفاعی حکمتِ عملی کے تحت ایٹمی طاقت رکھتا ہے۔ گو جیاکن نے مزید کہا کہ بیجنگ کسی بھی ملک کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگا۔

ترجمان کے مطابق “جن ممالک کے پاس سب سے بڑے ایٹمی ذخائر ہیں، ان پر یہ خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عملی طور پر ایٹمی تخفیفِ اسلحہ کے اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ سے ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ “ہم روس اور چین دونوں کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کے معاملات پر بات کر رہے ہیں کیونکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔”

ماہرین کے مطابق چین کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد امریکا اور روس کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ واشنگٹن اور ماسکو کے پاس ہزاروں ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں جبکہ بیجنگ کا ذخیرہ محدود ہے، اسی لیے چین کا مؤقف ہے کہ بڑے ایٹمی طاقتور ممالک کو سب سے پہلے اپنے ذخائر کم کرنے چاہئیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں