عمران خان کے بغض میں ڈاکٹر عافیہ کی سزا کی حمایت
واشنگٹن:وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عمران خان کے بغض میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی عدالت کی سزا کی حمایت کردی۔امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے لیے انٹرویو کے دوران این بی سی نیوز کے نامہ نگار برائے سکیورٹی امور ڈین ڈی لیوس نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے عمران خان کی گرفتاری پر سوال کیا۔اسحاق ڈار نے اس سوال کا جواب تو خاصے تحمل کے ساتھ دیا لیکن اس کے باوجود وہ کچھ ایسا کہہ گئے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر انھیں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اسحاق ڈار نے عمران خان کی گرفتاری کا جواز پیش کرتے ہوئے اس کا موازنہ امریکا میں قید پاکستانی سائنسدان ڈاکٹرعافیہ صدیقی سے کیا۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بیان اس لیے بھی زیادہ تنقید کا نشانہ بن رہا ہے کیونکہ پاکستان میں ایک طبقہ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف امریکی عدالت کے فیصلے کو درست نہیں مانتا۔ اس حوالے سے ایک کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی زیرِ التوا ہے۔
انھوں نے اپنے سوال کا آغاز کچھ یوں کیا کہ میں آپ سے اب ایک ایسا سوال کرنے جا رہا ہوں، جو شاید آپ کو اچھا نہ لگے۔ دو برس قبل عمران خان کو گرفتار کیا گیا۔ آپ کے ملک اور بیرون ملک میں بھی انھیں اچھی خاصی تعداد میں لوگ سپورٹ کرتے ہیں، اس بارے میں سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ ان کے کیس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ امریکی صحافی نے مزید کہا کہ ایسا نہیں کہ پاکستان میں پہلی بار کسی اہم سیاسی شخصیت کو جیل بھیجا گیا ہو، کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ اس حوالے سے پاکستانی کی جمہوری ساکھ متاثر ہو رہی ہے؟اسحاق ڈار نے اپنے جواب کا آغاز کچھ ایسے کیا کہ وہ 30 برس سے زیادہ عرصے سے پاکستانی سیاست میں ہیں اور انھیں مصالحت کار کے طور پر جانا جاتا ہے ۔سنہ 2014 میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں 126 روزہ دھرنے سے ملک کو شدید معاشی نقصان ہوا۔ میں نے اس وقت حکومت کی طرف سے ثالت کا کردار ادا کیا، جسے میں سیاسی سیز فائر کہتا ہوں اور معاملات حل ہو گئے لیکن جب آپ ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اسلحہ اٹھا لیں اور وہ سب چیزیں کریں جو 9 مئی کو ہوئیں، تو بدقسمتی سے پھر میرے جیسا شخص بھی کچھ نہیں کر سکتا اور قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد ضروری ہو جاتا ہے۔
اسحاق ڈار نے اپنی بات بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہر چیز کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مثال کے طور پر اگر میں عافیہ صدیقی کی بات کروں تو وہ دہائیوں سے یہاں (امریکامیں) ہیں اور خدا جانے وہ کب تک یہاں رہیں گی، اگر قانون پر عملدرآمد کیا گیا، جس کے نتیجے میں عافیہ صدیقی کو سزا ہوئی تو میں اگر اس فیصلے پر تنقید کروں تو یہ غلط ہو گا۔اسحاق ڈار نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ تو سب کے لیے ایسا ہی ہے، کسی کو استثناحاصل نہیں، اگر آپ مقبول سیاسی لیڈر ہیں تو آپ کو یہ لائسنس نہیں مل جاتا کہ آپ اسلحہ اٹھا لیں، لوگوں کو اشتعال دلائیں اور ملک کی سکیورٹی تنصیبات پر حملہ کریں۔ یہ غداری کے برابر ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ میں کوئی جج نہیں، میں کچھ نہیں کر سکتا۔ میں ثالثی کرتا تھا لیکن اس معاملے میں میرا جیسا شخص بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ قانون پر عملدرآمد ہو گا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے اس معاملے میں کچھ نہیں کیا، یہ عدلیہ اور نگراں حکومت نے کیا۔ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک کی طرح ہمیں عدلیہ کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کا حق حاصل نہیں۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسحاق ڈار کے اٹلانٹک کونسل کے دورے کے حوالے سے بیان تو جاری کیا ہے تاہم اس میں وزیر خارجہ کے عافیہ صدیقی کے حوالے سے بیان کو کوئی ذکر نہیں۔
بی بی سی کے مطابق اسحاق ڈار کے اس بیان پر ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم سوشل میڈیا پر صارفین خاصے غصے میں نظر آتے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما انجینئرنوید نے لکھا کہ عمران خان کی غیر قانونی اور غیر آئینی قید کا جواز پیش کرنے کے لیے اسحاق ڈار نے منصفانہ ٹرائل نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور سزا کا دفاع کیا۔انھوں نے مزید لکھا کہ یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ مسلم لیگ نون پاکستان کے ساتھ ہونے والی سب سے بدترین چیز ہے۔ڈاکٹر وقاص نواز نے لکھا کہ کہ سب سے بدترین چیز یہ منافقت ہے۔ پاکستان میں اقتدار میں موجود لوگ عوامی طور پر تو ڈاکٹر عافیہ کے خاندان کے ساتھ ہمدردی کا ڈرامہ کرتے ہیں جبکہ نجی طور پر ڈاکٹر عافیہ کی تکلیف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنی جانب سے ہونے والی خلاف ورزیوں کا جواز پیش کرتے ہیں۔سیدہ صفوی نامی صارف نے لکھا کہ وہ (حکومت) دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے کہ وہ صحیح ہیں، کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔

