کراچی:
گل پلازہ متاثرین میں کھلونوں کا امپورٹر بھی شامل ہے جس نے اپنے 7 کروڑ روپے نقدی آگ کی نذر ہو جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں تاجر علاءالدین شاہ نے بتایا کہ ہمارے پاس ہفتہ وار کیش آتا ہے جو جمعہ اور ہفتے کی شب جمع ہوتا ہے، تمام کیش پیر کی صبح ہم نے جمع کروانا ہوتا ہے۔
تاجر نے بتایا کہ عمارت کا جو حصہ گرنے سے رہ گیا ہے وہاں ہمارا دفتر قائم ہے، ریسکیو ٹیموں کی مدد سے اندر جاکر دیکھا تو علم ہوا تمام رقم اور ضروری دستاویزات جل گئیں۔
شک ہے کہ گل پلازہ کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی، ڈپٹی کمشنر کراچی
سانحہ گل پلازہ؛ انتظامی ناکامیوں پر مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب نے سوالات اٹھا دیے
گل پلازہ آتشزدگی، دھویں میں پھنسی خاتون کی دل دہلا دینے والی ویڈیو سامنے آگئی
تاجر نے دعویٰ کیا کہ ہمارا بھاری مالیت کا مال تجارت بھی آگ کی نذر ہوا جبکہ گھر کے دستاویزات بھی جل گئے۔
کھلونوں کے امپورٹر نے بتایا کہ وہ تقریباً 25 سال سے اس کا کاروبار کر رہا ہے، جو ہوا اس پر افسوس ہے لیکن اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔


