کراچی: سندھ کے تاریخی آثار قدیمہ کے مقام موہن جو دڑو میں جاری کھدائی کے دوران ایک اہم دریافت سامنے آئی ہے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے شہر کے تحفظ کے لیے تعمیر کی گئی ایک حفاظتی دیوار کے آثار دریافت کر لیے ہیں۔ کھدائی کے دوران مرکزی شہر کے گرد کچی اینٹوں سے بنی ایک دیوار ملی ہے، جسے اب باقاعدہ فصیل قرار دیا جا رہا ہے۔
موہن جو دڑو میں یہ کھدائی پاک امریکا مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کے تحت جاری ہے۔ ماضی میں 1950 اور 1951 میں ایک برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ نے ان ساختوں کو محض کچی اینٹوں کی بنیاد قرار دیا تھا، تاہم حالیہ کھدائی اور زمینی تہوں کے شواہد سے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ دراصل شہر کی حفاظتی فصیل تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فصیل ممکنہ طور پر تجارتی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور شہر میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔
اس اہم دریافت پر صوبائی وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ نے ماہرین آثارِ قدیمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سندھ کے تاریخی ورثے کی عالمی اہمیت مزید اجاگر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس دریافت سے تحقیقی کام کے ساتھ ساتھ سیاحتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔