راولپنڈی: اڈیالہ روڈ پر گزشتہ روز ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں سمیت اہم قیادت کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سنگین مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تھانہ صدر بیرونی میں درج ہونے والی اس ایف آئی آر میں قانون کی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر چوکی انچارج عمران خان کی مدعیت میں درج کی گئی ہے جس میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ ایم این اے شاہد خٹک، ایم پی اے مینا خان اور شفقت اعوان سمیت کئی عہدیداروں کو بھی ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق مشتعل ہجوم کی جانب سے کیے گئے پتھراؤ سے نو پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شرپسندوں نے سرکاری و نجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے انتشار پھیلا کر پنجاب حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ موقع پر موجود چوالیس ملزمان کو حراست میں لیا گیا تھا جو بعد ازاں پولیس کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
حکام نے فرار ہونے والے ملزمان کی 13 گاڑیاں بھی اپنی تحویل میں لے لی ہیں جن کی تلاشی کے دوران اہم شواہد برآمد کیے گئے ہیں۔
گاڑیوں سے پٹرول، کانچ کی بوتلیں، روئی اور ماچس جیسی اشیا برآمد ہوئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہنگامہ آرائی کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس مقدمے میں 1400 نامعلوم افراد کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی کو بھی سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔