اسلام آباد: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران اور دیگر فریقین کے درمیان ممکنہ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے اور کسی دوسرے ملک میں ان کا انعقاد قبول نہیں کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران پاکستان کو ایک قابل اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، ایران خطے میں کسی بالادستی کا خواہاں نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پُرامن پالیسی پر عمل پیرا ہے،ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے اور اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت کبھی پیش نہیں کیا گیا۔
رضا امیری مقدم نے دعویٰ کیا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) بھی اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے حق میں نہیں ہے، ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے مسلسل دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، اس کے باوجود ملک نے مزاحمت جاری رکھی ہے اور کسی بیرونی دباؤ کے آگے نہیں جھکا۔
ایرانی سفیر کے مطابق امریکا اور بعض مغربی قوتیں خطے میں اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں، جس سے امن کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے، بعض اوقات مذاکرات کے دوران بھی حملے کیے گئے، جس سے سفارتی کوششیں متاثر ہوئیں، ان تمام چیلنجز کے باوجود ایرانی قوم متحد اور مضبوط ہے اور ملک اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہے۔