اسلام آباد: ملک کی مختلف طلبہ تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم متحدہ طلبہ محاذ کے زیر اہتمام “اسٹوڈنٹس لیڈر کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے طلبہ رہنماؤں نے شرکت کی اور امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز، خطے کی صورتحال اور عالمی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
یہ سربراہی اجلاس امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی میزبانی میں منعقد ہوا جس میں متحدہ طلبہ محاذ پاکستان کے صدر رانا عثمان، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی صدر سید امین شیرازی، اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل آفتاب حسین، مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ کے مرکزی صدر فرحان عزیز، مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر یاسر عباسی، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے حاشر منہاس، جمعیت طلباء اسلام کے حافظ آبشار، مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ق) کے سہیل عامر چشمہ اور ایم ایس او کے نائب صدر حیدر عباس سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ کی زندگی، جدوجہد اور خدمات کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، خودمختاری اور استقامت کے لیے نمایاں کردار ادا کیا، جسے تاریخ میں سنہری حروف سے یاد رکھا جائے گا۔
کانفرنس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور حکومت پاکستان و عسکری قیادت کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا۔ شرکاء نے لبنان پر اسرائیلی جارحیت، فلسطین میں جاری مظالم اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔
طلبہ رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی قوم اور خصوصاً طلبہ برادری ایران کی مزاحمت اور جرات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس پر خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی ہر باشعور فرد کی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن بورڈ کا حصہ نہ بنے اور اپنی خارجہ پالیسی کو قومی و اسلامی مفادات کے مطابق ترتیب دے۔
آخر میں متحدہ طلبہ محاذ کے رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔