واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں اور وہ کل شام وہاں موجود ہوں گے، جہاں ایران سے متعلق اہم بات چیت متوقع ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کا فیصلہ کیا جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے، امریکی ناکہ بندی کے باعث یہ راستہ پہلے ہی بند ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کو ایک اچھا معاہدہ پیش کر رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ ایران اسے قبول کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو یومیہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ امریکا کو اس سے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچ رہا، ایران نادانستہ طور پر ایسے اقدامات کر رہا ہے جو خود اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے واضح کیا کہ اب مزید نرمی نہیں دکھائی جائے گی اور اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو امریکا سخت اقدامات کرے گا، ماضی میں دیگر امریکی صدور کو بھی ایران کے حوالے سے سخت فیصلے کرنے چاہیے تھے، اب وقت آ گیا ہے کہ اس مسئلے کو حتمی طور پر حل کیا جائے۔