ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس، اخراجات پر بحث شروع

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد کیے جانے کے فیصلے کے بعد نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں اس اجلاس کے اخراجات اور انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ اجلاس عوامی اسمبلی  کے نام سے اسٹیڈیم میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس کے لیے باقاعدہ طور پر اسپورٹس گراؤنڈ کو اسمبلی ہال کی طرز پر تیار کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے ارکانِ اسمبلی کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں لگائی ہیں جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے لیے الگ الگ نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ اجلاس کی کارروائی کو ریکارڈ کرنے کے لیے جدید ساؤنڈ سسٹم اور مائیکروفونز بھی نصب کیے گئے ہیں جبکہ میڈیا اور سرکاری افسران کے لیے علیحدہ جگہ مختص کی گئی ہے۔

کنٹریکٹر کے مطابق تیاریوں اور دیگر انتظامی اخراجات کا مجموعی خرچہ تقریباً 15 لاکھ روپے تک پہنچا ہے، جس میں کھانے پینے، نشستوں کی تیاری، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر انتظامات شامل ہیں۔ اس اخراجات نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اس نوعیت کے اجلاس کے لیے اسٹیڈیم کا استعمال مناسب ہے یا نہیں۔

یہ اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے اعلان کے بعد منعقد کیا جا رہا ہے، جنہوں نے مردان میں ایک جلسے کے دوران اسمبلی اجلاس کھلے میدان میں منعقد کرنے کی تجویز دی تھی۔ بعد ازاں اسپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی نے اپنے اختیارات کے تحت رولز کے مطابق اجلاس اسٹیڈیم میں بلانے کا فیصلہ کیا۔

ادھر سیاسی ماحول بھی تقسیم کا شکار ہے۔ جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے شرکت یا عدم شرکت کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ کچھ ارکان نے انتظامات کا جائزہ بھی لیا ہے اور مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں