تہران: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے عائد کی گئی بحری ناکہ بندی کا اصل مقصد ایران میں اندرونی اختلافات پیدا کرنا اور ملک کو سیاسی و معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ سے منسوب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محمد باقر قالیباف نے امریکی اقدامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران میں سخت گیر اور اعتدال پسند حلقوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اندرونی عدم استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کیا کہ امریکا معاشی دباؤ اور میڈیا مہم کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، ایسے حالات میں قومی اتحاد ہی واحد مؤثر جواب ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ تیل محسن پاک نژاد نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ملک میں تیل کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کا نظام مکمل طور پر مستحکم ہے اور کسی قسم کی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں، تیل کی صنعت سے وابستہ عملہ مسلسل کام کر رہا ہے تاکہ توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھا جا سکے اور ملکی ضروریات متاثر نہ ہوں۔
واضح رہے کہ امریکا نے 13 اپریل سے ایران کی اہم بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کے اطراف بحری پابندیاں سخت کر رکھی ہیں، جس کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین تیل ترسیلی گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔