ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکی بحری ناکہ بندی سے ایران کی تجارتی سرگرمیاں متاثر

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے عائد کی گئی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں جبکہ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق نئی سفارتی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کی اہم بندرگاہ چاہ بہار پر بیس سے زائد تجارتی جہاز پھنس کر رہ گئے ہیں اور بحری آمد و رفت تقریباً معطل ہو چکی ہے، ناکہ بندی سے قبل بندرگاہ پر روزانہ اوسطاً پانچ جہاز لنگر انداز ہوتے تھے، موجودہ صورتحال میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے تاکہ تہران کو اپنی علاقائی اور عسکری پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور کیا جا سکے،اس ناکہ بندی سے ایران کی معیشت اور بین الاقوامی تجارت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔

علاقائی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور اطراف کے سمندری راستوں کی صورتحال پہلے ہی غیر یقینی کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور سپلائی چینز پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اسی دوران وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تجویز پر غور کیا ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور خطے میں کشیدگی میں کمی لانا بتایا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی ہے بشرطیکہ جنگی صورتحال کا خاتمہ کیا جائے، ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ وہ شدید دباؤ کا شکار ہے اور جلد آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے، ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ ایرانی پیشکش سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایرانی تجویز کو ماضی کے مقابلے میں بہتر قرار دیا، لیکن واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا بنیادی شرط ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے نظرثانی شدہ تجاویز پر سپریم لیڈر سے مشاورت کے لیے چند دن کی مہلت مانگی ہے جبکہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی طویل ناکہ بندی کی تیاری کی ہدایت بھی جاری کی ہے تاکہ تہران پر دباؤ مزید بڑھایا جا سکے۔

ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک اب بھی جنگی صورتحال میں ہے اور کسی بھی نئی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں