لاہور میں گزشتہ 5 برس کے دوران خواتین کے اغوا اور ان کی عدم بازیابی سے متعلق پولیس ریکارڈ نے تشویشناک صورتحال ظاہر کر دی ہے، جس کے مطابق سینکڑوں خواتین کے کیسز تاحال حل نہیں ہو سکے اور ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
پولیس دستاویزات کے مطابق سال 2021 سے 2025 کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 824 خواتین کے اغوا کے کیسز ایسے ہیں جن میں متاثرہ افراد کی موجودگی یا ان کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکی۔ یہ صورتحال نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے بلکہ شہری حلقوں میں بھی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ کیسز لاہور کے کینٹ ڈویژن سے رپورٹ ہوئے، جہاں سے اغوا ہونے والی 282 خواتین کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ اسی طرح صدر ڈویژن میں 152، سٹی ڈویژن میں 124، ماڈل ٹاؤن میں 110 اور اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 100 خواتین کے کیسز ایسے ہیں جن میں پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔
مزید تفصیلات کے مطابق سول لائنز ڈویژن سے بھی 56 خواتین کے اغوا کے کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم ان میں سے کسی بھی مغویہ کا سراغ تاحال نہیں لگایا جا سکا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام واقعات میں مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور تفتیشی عمل بھی جاری ہے، مگر متعدد کیسز میں اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
قانونی و سماجی اتنی بڑی تعداد میں کیسز کا حل نہ ہونا نہ صرف تفتیشی نظام پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش کے موجودہ طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔