اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کیخلاف دائر مرکزی اپیلوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے 7 مئی کو مقرر کر دیا ہے۔
عدالت عالیہ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے سزا معطلی کی درخواستوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا، کیونکہ اب مرکزی اپیلوں پر سماعت کا عمل جلد ہی شروع ہونے جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلا نے استدعا کی تھی کہ مرکزی اپیلوں سے قبل سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ کیا جائے، تاہم عدالت نے ان کی یہ قانونی استدعا مسترد کر دی۔ اس فیصلے کے بعد اب تمام تر توجہ اب 7 مئی کو ہونے والی مرکزی سماعت پر مرکوز ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے مارچ 2025 میں اپنی سزا معطلی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان درخواستوں پر قانونی کارروائی جاری تھی، لیکن اب ہائیکورٹ نے براہ راست مرکزی اپیلوں کو سننے کا فیصلہ کیا ہے جس سے کیس میں تیزی آئے گی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں بانی پی ٹی آئی کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اسی کیس میں بشریٰ بی بی کو 7 برس قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ سنایا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں۔