پشاور:جمعیت علمائے اسلام ف نے شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت پر کل بروز بدھ صوبہ بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا۔
جے یو آئی ف کے اہم رہنما اور سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے پشاور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مولانا شیخ ادریس نماز کے بعد درس قرآن دے کر گھر تشریف لارہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا گیا۔
ان کے ساتھ 2 محافظین بھی شدید زخمی ہیں، کیا ریاست کے حق میں بات کرنا جرم ہے؟ کیا ملک اور اداروں کے تحفظ کی بات کرنا جرم ہے؟
ہم نے ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر حکومت کی مخالفت کی ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایسے حملوں سے علماءکی آواز کو دبایا جائے گا تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت سنگین آئینی اور سیکورٹی بحران کا شکار ہے، لیکن ریاستی ادارے اپنا اصل کام چھوڑ کر سیاست میں مصروف ہیں، ریاستی اداروں نے ملک میں امن و امان کے قیام کا بنیادی فریضہ پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
ریاستی اداروں نے ملک میں امن کا کام چھوڑ کر سیاست اور پارلیمنٹ کے اندر مداخلت شروع کر دی ہے، جب ادارے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو ریاست کا ڈھانچہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ اگر اداروں کی موجودگی میں قوم کے ساتھ اس طرح کا بھیانک ظلم کیا جائے تو وہ ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے، عوام مہنگائی، بے روزگاری اوربے امنی کی چکی میں پس رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، علماءکرام اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن سیکورٹی ادارے ان کی حفاظت کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔