امریکا کے سابق صدر بارک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کا معاملہ بغیر کسی میزائل حملے کے کامیابی سے حل کیا تھا۔
ایک انٹرویو میں بارک اوباما نے کہا کہ ان کی حکومت ایران سے 97 فیصد افزودہ یورینیم نکلوانے میں کامیاب رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہوا، نہ بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئیں اور نہ ہی آبنائے ہرمز بند کرنے جیسی صورتحال پیدا ہوئی۔
سابق امریکی صدر نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی ایران جنگ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارک اوباما پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران سے متعلق ان کی پالیسیوں کو شدید نشانہ بنایا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے سب سے زیادہ فائدہ اس وقت اٹھایا جب بارک اوباما امریکا کے صدر تھے۔ ان کے مطابق اوباما ایران کے حوالے سے نرم مؤقف رکھتے تھے اور ان کی پالیسیاں تہران کے حق میں گئیں۔
امریکی صدر نے الزام لگایا تھا کہ اوباما کے دور میں ایران کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کا موقع ملا اور اسی عرصے میں ایران کو سیکڑوں ارب ڈالر کے ساتھ ایک ارب ستر کروڑ ڈالر نقد رقم بھی فراہم کی گئی۔ ٹرمپ کے مطابق یہ رقم اتنی زیادہ تھی کہ ایرانی حکام بھی حیران رہ گئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں بارک اوباما کو ایک کمزور اور ناتجربہ کار امریکی صدر قرار دیا تھا۔