واشنگٹن: بھارت میں حکومتی سرپرستی میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم و ستم اور منظم تشدد پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق انسانی حقوق کی ایک بااثر عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی قیادت کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔
سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رقب حمید نے کہا کہ مودی سرکار کے دور میں بھارت اقلیتوں کے لیے جہنم بن چکا ہے۔ انہوں نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سے اپیل کی کہ انتہا پسند ہندو رہنماؤں کا احتساب کیا جائے۔
عالمی جریدے ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی، یوگی آدتیہ ناتھ اور ہمانتا بسوا شرما اقلیتوں کے خلاف جاری مظالم کی بنیادی وجہ ہیں۔ ان کے ایما پر آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیمیں مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔
بھارت میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم ایک باقاعدہ پالیسی بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ محض حادثاتی نہیں، بلکہ بھارت کو سیکولر ریاست سے ہٹا کر ایک شدت پسند ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔
آسام کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ وہاں سال 2021 سے اب تک 22 ہزار سے زائد مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا ہے۔ اس ریاستی جبر کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ افراد اپنے ہی ملک میں دربدر ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں جو لمحہ فکر ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے شدت پسند تنظیموں کی منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد خوف و ہراس پھیلا کر اقلیتوں کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا اور انہیں معاشرتی طور پر مکمل تنہا کر دینا ہے۔
عالمی برادری اب بھارت کے اس مسلم دشمن چہرے کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتی۔ انسانی حقوق کے ماہرین کا مطالبہ ہے کہ بھارت پر سفارتی دباؤ ڈالا جائے تاکہ اقلیتوں کا جینا دوبھر کرنے والی ان ظالمانہ کارروائیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کروایا جا سکے۔